کانگریس اور بی جے پی ختم ہو رہی ہیں؟

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے اقتدار کے تقریباً دس برس میں میڈیا سے صرف تین بار خطاب کیا۔
تیسری نیوز کانفرنس انہوں نے جمعے کو دلی میں کی ۔ حزب اختلاف ان کی حکومت کو آزاد بھارت کی سب سے بدعنوان حکومت کہتی رہی ہے۔ مسٹر سنگھ نے اس کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ حزب اختلاف کے بر عکس تاریخ ان کے ساتھ رحمدلی کے ساتھ پیش آئے گی۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ ماہر اقتصادیات کا کردار ادا کرتے کرتے ملک کی سیاست میں داخل ہوئے تھے اور وزارت اعظمٰی کی ذمے داری گاندھی خاندان کی مجبوری کے سبب بائی ڈیفالٹ انہیں ملی تھی۔
منموہن سنگھ کی سب سے بڑی کمزوری ان کی خاموشی تھی۔ حکمراں کانگریس نے ماضی کی طرح جاگیردارانہ انداز میں حکومت چلائی۔
بھارت کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی طرح کانگریس اس بدلے ہوئے پس منظر کو محسوس نہ کر سکی کہ نئی نسل ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ آزاد، باعلم اور آگاہ ہے۔

آج کی نسل پوری دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہی ہے اور محسوس کر رہی ہے۔ غیر ممالک کا سفر کرنے والوں میں بھارتی شہریوں کی تعداد دنیا کی اولین صفوں میں ہے۔ آج ہر کوئی ایک جوابدہ ایماندارانہ اور مؤثر نظام کا متمنی ہے۔
بھارت میں سیاسی جماعتیں ابھی تک ایک وی آئی پی کلچر کو فروغ دیتی رہی ہیں۔ حکومت کا مطلب یہاں طاقت، دولت، رسوخ اور عوام سے دوری بنائے رکھنا ہے۔ سیاست یہاں دولت اور طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔
ابھی کچھ دنوں پہلے تک ایک معمولی سے وزیر کے گزرنے کے وقت سڑکین بند کر دی جاتی تھیں۔ اتر پردیش، تمل ناڈو اور گجرات کے وزراء اعلٰی کو اگر کہیں دیکھیں تو وہ ہندی فلموں کے ولن کی طرح نظر آتے ہیں۔ انہیں بیسیوں کمانڈوز کے درمیان تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ابھی تک یہ سیاست داں ایک پیسے کا حساب دیے بغیر عوام کی محنت کی کمائی سے حاصل کی گئی دولت سے اپنی جاگیر داری چلا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منموہن کی حکومت کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا موازنہ ان کی خاموشی اور بے عملی کی مناسبت سے کسی بت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہ خاموشی اور بے عملی کے قومی بت ہیں۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی بھی حقیقت سے پوری طرح کٹی ہوئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نہ اپنے نظریے پر یقین ہے اور نہ ہی وہ مستقبل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

گزشتہ دس برس میں اس نے صرف پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے میں مہارت حاصل کی ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی پروگرام ہے اور نہ پالیسی۔ لیکن اس جماعت نے اس حقیقت کا بالکل صحیح تجزیہ کیا کہ عوام کی نظروں میں اس کی حیثیت کانگریس سے مختلف نہیں ہے۔
منموہن سنگھ کی حکومت نے گزشتہ دس برس کے اقتدار میں عوام کو خود سے بہت اچھی طرح بیزار کیا ہے۔ لیکن بی جے پی خود کو ایک موثر، فعال اور مستقبل کی پارٹی کے طور پر پیش نہ کر سکی۔ مجبوری میں اسے نریندر مودی جیسے ایک علاقائی رہنما کو سامنے لانا پڑا جن کا سیاسی ماضی اتنا متنازع ہے کہ ان کا مستقبل شاید اس سے شرمسار ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت ایک انجانے خوف سے گزر رہی ہیں۔ دلی کے عوام نے بے یقینی کے عالم میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو فتح یاب کر کے سیاسی جماعتوں کو ایک واضح پیغام دے دیا ہے۔ بھارت میں اب پہلے جیسی جاگیردارانہ سیاست نہیں چلے گی۔
عام آدمی پارٹی کی جیت محض علامتی جیت نہیں ہے۔ یہ سیاسی تغیر کا آغاز ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو اپنا طریقۂ کار اور طرز فکر بدلنا ہوگا۔ مئی کے پارلیمانی انتخابات بھارت کی پرانی سیاسی جماعتوں کا رخ اور مستقبل میں ان کے مقام کا تعین کریں گے۔







