دہلی:کیجریوال حکومت کو اعتماد کا ووٹ مل گیا

اروند کیجریوال
،تصویر کا کیپشناروند کیجریوال دہلی کے ساتویں وزیرِ اعلیٰ ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ریاستی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔

ستر رکنی ایوان میں اس پارٹی کے اٹھائیس ارکان ہیں لیکن کانگریس کے آٹھ اراکین نے بھی اس کی حمایت کی۔

ووٹنگ کے لیے ایوان میں سپیکر نے پہلے ان لوگوں سے کھڑے ہونے کے لیے کہا جو حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور پھران لوگوں سے جو حکومت کے خلاف ہیں۔

مخالفت میں صرف بی جے پی کے اراکین کھڑے ہوئے جس کے بعد سپیکر نے اعلان کیا کہ حکومت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔

اعتماد کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلی اروند کیجری وال نے کہا کہ ’ملک کی سیاست بدعنوانی کی نذر ہوچکی ہے اور ہم اسی نظام کو بدلنے آئے ہیں۔۔۔ اب سرکاری پیسہ کہاں خرچ ہوگا یہ فیصلہ سیاستدان اور افسر نہیں بلکہ مقامی لوگ طے کریں گے۔‘

کیجری وال نے اپنی تقریر میں ان تمام وعدوں کا ذکر کیا جو ان کی پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی سخت قانون وضع کرے گی اور تمام فیصلوں میں عام لوگوں کی رائے شامل کی جائے گی اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف اس لڑائی میں کون ان کےساتھ ہے اور کون خلاف۔

وہ دلی کی آبادی کو مفت پانی فراہم کرنے اور بجلی کی نرخ میں کمی کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں لیکن حزب اختلاف بی جے پی اور کانگریس دونوں نے ان فیصلوں کے لیے نئی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

دونوں جماعتوں کا موقف تھا کہ ان فیصلوں سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھے گا کیونکہ یہ رعایت سبسڈی کی شکل میں دی جائے گی اور یہ کہ فیصلے کرنے میں جلد بازی سے کام لیا جارہا ہے۔

اعتماد کے ووٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سینیئر رہنما منیش سسوڈیا نے کہا کہ ایوان میں انہیں اکثریت تو حاصل نہیں ہے لیکن حکمرانی کے لیے انہیں عوام کا اخلاقی مینڈیٹ حاصل ہے۔

ایوان میں کانگریس کے لیڈر اروندر سنگھ نے کہا کہ حکومت جب تک عوام کی بہبود کے لیے کام کرے گی، پارٹی اس کی حمایت جاری رکھے گی۔

لیکن حزب اختلاف بی جے پی نے وزیراعلی اروند کیجریوال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت بنانے کے لیے کانگریس کا سہارا لے لیا ہے حالانکہ انتخابی مہم کے دوران وہ کانگریس کی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش کرانے اور وزیراعلی شیلا دکشت کو جیل بھیجنے کے بلند و بانگ دعوے کررہے تھے۔

عام تاثر یہی ہے کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت ابھی پہلی آزمائش سے گزری ہے اور اب نگاہیں اس بات ہوں گی کہ وہ کانگریس کے دور اقتدار میں ہونے والے مبینہ گھپلوں کی تفتیش کس انداز میں کراتی ہے اور کیا کانگریس اس وقت بھی حمایت جاری رکھے گی جب خود اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہوگی۔