دہلی: کیجریوال کا پارٹی میں اختلافات سے انکار

عام آدمی پارٹی نے عوام سے ایک قسم کے ریفرنڈم کے بعد ہی حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنعام آدمی پارٹی نے عوام سے ایک قسم کے ریفرنڈم کے بعد ہی حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے

دہلی میں ریاستی حکومت سازی کے لیے تیار عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے۔

بھارت میں گذشتہ روز میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ ان کی جماعت میں بعض معاملات پر اختلاف پیدا ہو گئے ہیں۔

اروند کیجریوال کی جماعت دہلی میں حکومت سازی کرنے جا رہی ہے اور وہ دہلی کے وزیرِاعلی کے عہدے کا حلف لینے والے ہیں۔

کیجریوال نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کی جماعت کے رکن اسمبلی ونود کمار بني وزراء کی ممکنہ فہرست میں نام نہ آنے سے ناراض ہیں۔

عام آدمی پارٹی کانگریس کی حمایت سے دہلی میں حکومت بنانے جا رہی ہے کیونکہ اسمبلی انتخابات میں کسی بھی جماعت کو مطلوبہ اکثریت نہیں مل سکی تھی اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بی جے پی نے حکومت سازی سے انکار کر دیا تھا۔ بہر حال کیجریوال نے کانگریس کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد سے انکار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’ہمارا نہ کسی سے اتحاد ہے اور نہ کسی سے بات چیت ہوئی ہے۔ دہلی کا جو رکن اسمبلی ہمیں حمایت دینا چاہتا ہے، وہ ساتھ آئے۔‘

حلف برداری کے موقع پر سماجی کارکن انّا ہزارے کو دعوت نامہ بھیجنے پر کیجریوال نے کہا کہ تاريخ کے تعین کے بعد وہ انّا سے خود بات کریں گے۔

عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کے حوالے سے کانگریس میں اختلافات کی خبروں پر کیجریوال نے کہا ’یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ہم حکومت اصولوں پر بنا رہے ہیں۔ کانگریس پہلے کہہ رہی تھی کہ ہم غیر مشروط حمایت دے رہے ہیں، جب کہ بی جے پی مشروط حمایت دینے کی بات کہہ رہی تھی۔‘

کانگریس میں جہاں عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کے معاملے پر بعض اختلافات نظر آ رہے ہیں، وہیں بی جے پی نے کانگریس کی مدد سے حکومت سازی کے فیصلے کو ’موقع پرستي‘ قرار دیا ہے۔

کانگریس کے ترجمان ميم افضل نے ایک بار پھر عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کی بات دہرائی ہے۔

بی جے پی لیڈر وجیندر گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے بی جے پی کو روکنے کے لیے عام آدمی پارٹی سے معاہدہ کیا ہے۔

دوسری جانب اروند کیجریوال نے کہا کہ ان کی پارٹی نے جن 18 مسائل کو اٹھایا ہے انھیں اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جو رکن اسمبلی ان کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، وہ سامنے آئیں۔

ان مسائل میں وی آئی پی کلچر بند کرنا، لوكپال بل پاس کرنا، دہلی میں ’سوراج‘ قائم کرنا، دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانا، عورتوں کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے خصوصی فورس بنانا اور کچی بستیوں میں رہنے والوں کو پکے مکان دینا جیسی چیزیں شامل ہیں۔

حلف برداری کی تقریب کی تاریخ کے متعلق کیجریوال نے کہا کہ اس بابت ابھی ان سے نائب گورنر نے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا ہے۔