بھارت میں عام انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل

الیکشن کے پہلے دور میں آسام میں پانچ اور تری پورہ میں ایک نشست کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالیکشن کے پہلے دور میں آسام میں پانچ اور تری پورہ میں ایک نشست کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

بھارت میں پیر کو لوک سبھا کی چھ نشستوں پر پولنگ کے ساتھ ہی 2014 کے عام انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں پیر کو شمال مشرقی ریاست آسام میں پانچ اور تری پورہ میں ایک نشست کے لیے ووٹنگ ہوئی اور ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آسام میں ووٹنگ کی شرح 72 فیصد اور تری پورہ میں 80 فیصد رہی۔

ان انتخابات کو دنیا کا سب سے بڑا انتخابی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران ملک بھر میں نو مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور 12 مئی کو آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے چار دن بعد 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا۔

81 کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں اور یہ تعداد 2009 کے الیکشن سے دس کروڑ زیادہ ہے۔

ووٹنگ کے عمل کے لیے الیکٹرانک مشینوں کی مدد لی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ رائے دہندگان کو کسی بھی امیدوار کو نہ چننے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایسے ووٹر ’ان امیداروں میں سے کوئی نہیں‘ والا بٹن دبا کر اپنی رائے دے سکیں گے۔

انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

آسام کی پانچوں سیٹوں پر کانگریس، بی جے پی، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سی پی ایم اور سماج وادی پارٹی سمیت کئی جماعتیں اپنے امیدوار سامنے لائی ہیں۔

ان نشستوں کے لیے کل 51 امیدوار میدان میں ہیں جن میں کانگریس کی طرف سے مرکزی وزیر رانی ناراہ، پبن سنگھ گھاٹووار، سابق مرکزی وزیر اور موجودہ ایم ایل اے بجی کرشنا ہاڈك، آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوي کے بیٹے فخر گوگوي اور بھوپن کمار بورا شامل ہیں۔

وہیں بی جے پی کے اہم امیدواروں میں ریاست کی اکائی کے صدر سورباندا سونووال اور كاماكھيا پرساد تاسا شامل ہیں۔

بائیں بازو کی حکومت والے علاقے تری پورہ میں مقابلہ کثیر رخی ہے جہاں سی پی ایم، کانگریس، بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار میدان میں ہیں۔

آسام میں اس بار علیحدگی پسند تنظیم الفا کے کسی بھی گروہ نے نہ تو لوگوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کے خلاف کوئی بیان دیا ہے۔

آسام میں کانگریس کو خاصا مضبوط سمجھا جاتا ہے اور اس جماعت اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ملک میں عوامی فلاح کی سکیمیں شروع کرے گی جن میں ہر کسی کے لیے صحتِ عامہ کی سہولیات اور بزرگ اور معذور افراد کے لیے پینشن بھی شامل ہے۔

بی جے پی نے اپنے منشور میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے خصوصی فنڈ بنانے اور بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے جماعت کے امیدوار نریندر مودی کی جانب سے بہتر بنیادی ڈھانچے، مضبوط قیادت، روزگار کے مواقع اور بہتر گورننس سے متعلق وعدے کیے گئے ہیں۔

اس مرتبہ بھارتی الیکشن میں ایک نئی جماعت عام آدمی پارٹی بھی شریک ہے جس نے دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نتائج سے سب کو حیران کر دیا تھا۔

بھارت کی پارلیمان کا ایوانِ زیریں یا لوک سبھا 543 نشستوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے کم از کم 272 نشستیں درکار ہوں گی۔