’فرضی حلف نامہ‘: نریندر مودی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت میں کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ ’فرضی‘حلف نامہ داخل کرنے کے الزام میں بی جے پی کے وزارتِ عظمی کے امیدوار نریندر مودی کے خلاف کارروائی کی جائے۔
وزیرِ قانون کپل سبل کی قیادت میں جمعے کو ایک وفد نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور کہا کہ نریندر مودی نے جب گجرات کے اسمبلی انتخابات کے لیے سنہ 2001 سے 2012 کے درمیان چار مرتبہ اپنے کاغزاتِ نامزدگی داخل کیے تو حلف ناموں میں نہ کبھی اپنی اہلیہ کا ذکر کیا اور نہ ان کے اثاثوں کا حالانکہ قانوناً وہ یہ معلومات فراہم کرنے کے پابند تھے۔
کپل سبل نے کہا ’کانگریس پارٹی نجی معاملات اٹھانا نہیں چاہتی لیکن یہ قانون کا معاملہ ہے اور اگر ایسا شخص ملک کی باگ ڈور سنبھالتا ہے تو اس پر کیسے بھروسا کیا جاسکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کیا کرے گا؟۔‘
نریندر مودی شادی شدہ ہیں اور عرصے سے اپنی اہلیہ سے الگ رہتے ہیں یہ کوئی راز نہیں تھا یہ خبریں کئی مہینوں سے آ رہی تھیں لیکن ماضی میں انھوں نے جب بھی حلف نامے داخل کیے تو شادی سے متعلق خانہ وہ خالی چھوڑ دیتے تھے۔
بھارتی سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ اب کوئی خانہ خالی نہ چھوڑا جائے اور کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اسی وجہ سے انھیں تسلیم کرنا پڑا کہ تقریباً 45 سال پہلے ان کی یشودا بین نام کی لڑکی سے شادی ہوئی تھی اور وہ اب بھی ان کی بیوی ہیں۔
کانگریس پارٹی انتخابی ریلیوں میں نریندر مودی کے اس اعتراف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
راہول گاندھی نے جمعے کو ایک انتخابی ریلی میں کہا نریندر مودی خواتین کے تحفظ کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے حلف نامے میں اپنی اہلیہ کا نام تک شامل نہیں کرتے پھر کہتے ہیں خواتین کی عزت کریں یہ کس طرح کی عزت ہے؟۔‘
نریندر مودی نے ابھی اس الزام کا جواب نہیں دیا لیکن وہ اکثر اپنی ریلیوں میں کہتے رہے ہیں کہ ان کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے تو وہ بدعنوانی کس کے لیے کریں گے؟۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب بی جے پی کی ترجمان نرملا سیتارمن ان کے دفاع میں کہتی ہیں کہ راہول گاندھی کو بیان دینے سے پہلے نریندری مودی کا حلف نامہ پڑھ لینا چاہیے تھا۔ انھوں نے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا اور نہ کبھی اس بات سےانکار کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ یہ شادی 45 سال پہلے ہوئی تھی جب وہ 17 سال کے تھے، اس موضوع کو اب اٹھا کر کانگریس اصل اشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی کا موقف ہے کہ جو معلومات فراہم ہی نہ کی گئی ہوں اس کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔
نریندر مودی کی اہلیہ یشودابین ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق جب سے خبر سامنے آئی ہے وہ تیرتھ یاترا پر چلی گئی ہیں اور نریندری مودی کے وزیرِاعظم بننے کی دعا مانگ رہی ہیں۔







