مودی بے جی پی کی امیدوں پر پورا اتریں گے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، انڈیا
کیا بھارت کی اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام انتخابات میں وزیرِاعظم کے امیدوار کے طور پر نریندر مودی کو اتار کر بہت بڑا خطرہ مول لیا ہے؟
یقینی طور پر نریندر مودی کو بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے لیکن اسی تناسب سے لوگ انھیں ناپسند بھی کرتے ہیں۔
ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ کٹر قومیت پرستی اور گجرات کو ترقی کے راستے پر لے جانے والے منتظمین کی انتہائی احتیاط سے بنائی گئی شبیہ مودی کو بھارت پر حکومت کرنے کے لیے اہل امیدوار کے روپ میں پیش کرتی ہے۔
تاہم نریندر مودی کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ بھارت کے سب سے زیادہ تفرقے میں ڈالنے والے سیاستدان ہیں اور اپنے اقتدار کے دوران گجرات میں سنہ 2002 میں ہونے والے فسادات کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر چکے ہیں۔
بی جے پی کے مطابق ملک ان فسادات کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ چکا ہے اور جب کانگریس کے خلاف غصہ اور مایوسی اپنے عروج پر پہنچا ہو تب مودی کی قیادت میں اس کے پاس الیکشن جیتنے کا بہترین موقع ہے۔
انتخابی سروے اس امید کو اور بڑھا رہے ہیں جس میں کانگریس کے مقابلے میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو برتری ملتی نظر آرہی ہے۔
پارٹی کے اندر ایک دھڑے کی مخالفت کے بعد بھی بی جے پی نے متنازع مگر سحرانگیز شخصیت نریندر مودی کی شخصیت کے اردگرد پارٹی مجتمع ہونے کی اجازت دے دی۔ وہ اخبارات، ٹی وی نیٹ ورک، بس سٹیشنوں یا پھر میٹرو ریل میں ہر جگہ نظر آ رہے ہیں۔
وہ توانائی سے بھرپور انتخابی مہم چلاتے ہوئے پورے بھارت کا دورہ کر رہے ہیں اور انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ میرے ایک دوست نے مذاق میں کہا کہ نریندر مودی ہر جگہ، ہر وقت نظر آ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت میں ذاتی سیاست کا دور واپس آ رہا ہے جو سنہ 1970 کے دوران اندرا گاندھی کے زمانے میں تھا۔
یہ وہ دور تھا جب کانگریس کے ایک رہنما نے اندرا گاندھی کا موازنہ بھارت سے کر دیا تھا جس پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ کانگریس انتخابات میں اس وقت اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی جو کسی واحد پارٹی کی حکومت بنانے کے لیے ضروری تھا۔
لیکن سنہ 1980 کے آخری سالوں میں بھارتی سیاست میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے عروج کا دور شروع ہوا۔ اس کے بعد بھارت میں کئی سیاسی جماعتوں کی مخلوط حکومت کا دور آیا۔
سنہ 2009 کے عام انتخابات میں ملک بھر میں 363 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ سنہ 1984 میں یہ تعداد محض 35 تھی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کے اضافے سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دو بڑی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی گذشتہ پانچ انتخابات میں مشکل سے کل پڑنے والے ووٹوں کا نصف ہی لے پائی ہیں۔
بی جے پی کا خیال ہے کہ نریندر مودی کا ٹریک ریکارڈ اور سحرانگیزی پارٹی کو اکثریت دلانے میں کارگر ثابت ہوگی لیکن دوسرے لوگ اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایک شخص کے گرد انتخاب لڑنا خطرے سے خالی نہیں۔
نریندر مودی کے حق میں ووٹروں کا جھکاؤ نہیں نظر آ رہا، جس میں ملک کے کل ووٹروں کا 15 فیصد حصہ مسلم ووٹروں کا بھی ہے۔ یہ حصہ متحد ہو کر نریندر مودی اور ان کی پارٹی کو انتخابات ہرا سکتا ہے۔
مغرب کی لبرل جمہوریتوں میں ذاتی سیاست کا زیادہ دخل ہوتا ہے کیونکہ وہاں الیکٹرانک میڈیا کی رسائی زیادہ ہے۔ وہ مسائل کی بجائے لیڈروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
بھارت میں نریندر مودی کا سیلاب الیکٹرانک میڈیا میں نظر آ رہا ہے۔ ان کے حق میں نظر آنے والی لہر کو کئی لوگ ہندوستانی سیاست میں امریکی صدر کے نظام کی طرز پر دیکھ رہے ہیں۔
لیکن دہلی میں تھنک ٹینک سینٹر فار دا سٹڈی آف ڈویلپنگ سوسائیٹیز کے تجزیہ سنجے کمار اس پر شک ظاہر کرتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ بھارت میں ذاتی سیاست کا دور زیادہ عرصہ نہیں چلے گا کیونکہ مختلف قسم کی کئی مضبوط علاقائی پارٹیاں ملک میں موجود ہیں۔
ایسے میں بی جے پی نے ایک شخص پر اتنا بڑا جُوا کس طرح کھیل لیا؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، خاص کر سنہ 2004 اور 2009 میں پارٹی کے سینئیر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں دو الیکشن ہارنے کے بعد بی جے پی کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔
سنجے کمار کہتے ہیں: ’پارٹی مودی کے ساتھ تجربہ اور جیتنے کی امید کر رہی ہے۔ اور یہ تجربہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے اور ناکام بھی۔‘







