ایودھیا: رام مندر کے سنگ بنیاد کے 25 سال

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی ریاست اترپردیش کے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد تنازعے کے تعلق سے ایک سالگرہ نو نومبر بھی ہے۔ اس سال نو نومبر کو ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کے تعلق سے رام مندر کے سنگ بنیاد کو 25 سال ہو جائیں گے۔
ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل نے اس وقت کہا تھا: ’یہ محض ایک مندر کا نہیں، ہندو قوم کا سنگ ہے۔‘
سنہ 1989 کئی اعتبار سے مختلف واقعات کے رونما ہونے کا سال تھا۔ یورپ میں برلن کی دیوار کا دروازہ نو نومبر کو ہی کھول دیا گیا جس سے مشرقی اور مغربی جرمنی کے لوگ آسانی سے آ جا سکیں۔ یہ برلن کی دیوارگرنے کا نقطۂ آغاز تھا۔
آر ایس ایس کے حامی جے دوبانشي نے لکھا: ’ادھر ایک مندر کھڑا ہو رہا تھا اور ادھر ایک مندر گرنے جا رہا تھا۔‘
اشوک سنگھل اور دوبانشي کے بیانات میں رام جنم بھومی مندر کی مہم کے سیاسی پروجیکٹ کے متعلق کسی قسم کا شک نہیں ہے۔

یہ ایک دائیں بازو کے قوم پرستانہ سیاسی منصوبے تھے جو ہندوستان میں اکثریت ہندوؤں کو منظم کیے بغیر پھل پھول نہیں سکتے تھے۔
سنہ 1989 کے اکتوبر کے اواخر میں ہی بھاگلپور میں ہندوستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ خوفناک فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک ہوئے تھے۔
یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بھاگلپور پہنچ کر جب لاپرواہی برتنے اور فسادات کو جاری رکھنے کے الزام میں وہاں کی پولیس ڈی جی کو معطل کیا تو خود پولیس نے بغاوت کر دی اور ان کا گھیراؤ کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واقعہ اس وقت کے ہندوستان میں فرقہ وارانہ نفسیات کے جارحانہ پہلو کا غماز ہے اور اس میں ہر سطح پر انتظامیہ کی شرکت کے ثبوت بھی ہیں۔
بھاگلپور کے فرقہ وارانہ فسادات میں آر ایس ایس کی شرکت کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ یہ بات ریاستی حکومت کی جانب سے فسادات کی جانچ کرنے والی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
نہرو کا انتباہ

،تصویر کا ذریعہAP
سنہ 1989 ایودھیا کی بابری مسجد کو رام جنم بھومی مندر کی شکل دینے کے چالیس سال مکمل ہونے کا وقت بھی تھا۔
1949 کے نومبر میں ہی بابری مسجد کے اندر رام اور ديگر دیوتاؤں کی مورتیاں چوری سے رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی لگ گئی۔
کرشناجھا اور دھيریندر جھا کی تحقیقی کتاب ’دی ڈارک نائٹ‘ میں اس سازش کی پوری کہانی کہی گئی ہے۔
اور یہ بھی کہ کس طرح جواہر لال نہرو کے باربار خبردار کرنے اور تشویش ظاہر کرنے کے بعد بھی کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے، جن میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ گووندوللبھ پنت شامل تھے، اس معاملے کو ’ہندو نظریے‘ سے ہی دیکھا۔
اس معاملے میں ہندو فریق کے ساتھ مل کر انتظامیہ نے شریک سازشی کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کو نہیں بھولا جاسکتا اور مستقبل کے ہندوستان میں پولیس اور انتظامیہ کا یہ مسلم مخالف رویہ مزید گہرا ہی ہوا۔

،تصویر کا ذریعہ
بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی محض سٹائل ہی میں نہیں، بلکہ فکر کے معاملے میں بھی اپنے والد سے مختلف تھیں۔ نہرو ہندوؤں کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل چیلنج کرتے رہتے تھے۔ انھیں اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ہندوستان کو اصل خطرہ اکثریت کے مذہب کی قوم پرستی سے ہے۔
لیکن اندرا نے بنگلہ دیش کی جنگ سے شروع کرکے ایک نرم ہندو قوم پرستی کو غذا پہنچانا شروع کی۔







