ایودھیا: رام مندر کے سنگ بنیاد کے 25 سال

رام مندر کا سنگ بنیاد متنازعہ زمین سے علیحدہ کیا گیا تھا تاہم 6 دسمبر 1992 میں مسجد کو منہدم کرنے کا یہ منظر دنیا نے دیکھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرام مندر کا سنگ بنیاد متنازعہ زمین سے علیحدہ کیا گیا تھا تاہم 6 دسمبر 1992 میں مسجد کو منہدم کرنے کا یہ منظر دنیا نے دیکھا

بھارتی ریاست اترپردیش کے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد تنازعے کے تعلق سے ایک سالگرہ نو نومبر بھی ہے۔ اس سال نو نومبر کو ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کے تعلق سے رام مندر کے سنگ بنیاد کو 25 سال ہو جائیں گے۔

ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل نے اس وقت کہا تھا: ’یہ محض ایک مندر کا نہیں، ہندو قوم کا سنگ ہے۔‘

سنہ 1989 کئی اعتبار سے مختلف واقعات کے رونما ہونے کا سال تھا۔ یورپ میں برلن کی دیوار کا دروازہ نو نومبر کو ہی کھول دیا گیا جس سے مشرقی اور مغربی جرمنی کے لوگ آسانی سے آ جا سکیں۔ یہ برلن کی دیوارگرنے کا نقطۂ آغاز تھا۔

آر ایس ایس کے حامی جے دوبانشي نے لکھا: ’ادھر ایک مندر کھڑا ہو رہا تھا اور ادھر ایک مندر گرنے جا رہا تھا۔‘

اشوک سنگھل اور دوبانشي کے بیانات میں رام جنم بھومی مندر کی مہم کے سیاسی پروجیکٹ کے متعلق کسی قسم کا شک نہیں ہے۔

سنگ بنیاد کے وقت وی ایچ پی کے رہنما نے کہا تھا: ’یہ محض ایک مندر کا نہیں، ہندو قوم کا سنگ ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنسنگ بنیاد کے وقت وی ایچ پی کے رہنما نے کہا تھا: ’یہ محض ایک مندر کا نہیں، ہندو قوم کا سنگ ہے۔‘

یہ ایک دائیں بازو کے قوم پرستانہ سیاسی منصوبے تھے جو ہندوستان میں اکثریت ہندوؤں کو منظم کیے بغیر پھل پھول نہیں سکتے تھے۔

سنہ 1989 کے اکتوبر کے اواخر میں ہی بھاگلپور میں ہندوستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ خوفناک فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک ہوئے تھے۔

یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بھاگلپور پہنچ کر جب لاپرواہی برتنے اور فسادات کو جاری رکھنے کے الزام میں وہاں کی پولیس ڈی جی کو معطل کیا تو خود پولیس نے بغاوت کر دی اور ان کا گھیراؤ کر لیا۔

یہ واقعہ اس وقت کے ہندوستان میں فرقہ وارانہ نفسیات کے جارحانہ پہلو کا غماز ہے اور اس میں ہر سطح پر انتظامیہ کی شرکت کے ثبوت بھی ہیں۔

بھاگلپور کے فرقہ وارانہ فسادات میں آر ایس ایس کی شرکت کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ یہ بات ریاستی حکومت کی جانب سے فسادات کی جانچ کرنے والی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

نہرو کا انتباہ

نہرو ہندوؤں کو پچکارنے کے بجائے مسلسل چیلنج دیتے رہتے تھے اور انھیں اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ہندوستان کو اصل خطرہ اکثریت کے مذہب کی قوم پرستی سے ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننہرو ہندوؤں کو پچکارنے کے بجائے مسلسل چیلنج دیتے رہتے تھے اور انھیں اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ہندوستان کو اصل خطرہ اکثریت کے مذہب کی قوم پرستی سے ہے

سنہ 1989 ایودھیا کی بابری مسجد کو رام جنم بھومی مندر کی شکل دینے کے چالیس سال مکمل ہونے کا وقت بھی تھا۔

1949 کے نومبر میں ہی بابری مسجد کے اندر رام اور ديگر دیوتاؤں کی مورتیاں چوری سے رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی لگ گئی۔

کرشناجھا اور دھيریندر جھا کی تحقیقی کتاب ’دی ڈارک نائٹ‘ میں اس سازش کی پوری کہانی کہی گئی ہے۔

اور یہ بھی کہ کس طرح جواہر لال نہرو کے باربار خبردار کرنے اور تشویش ظاہر کرنے کے بعد بھی کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے، جن میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ گووندوللبھ پنت شامل تھے، اس معاملے کو ’ہندو نظریے‘ سے ہی دیکھا۔

اس معاملے میں ہندو فریق کے ساتھ مل کر انتظامیہ نے شریک سازشی کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کو نہیں بھولا جاسکتا اور مستقبل کے ہندوستان میں پولیس اور انتظامیہ کا یہ مسلم مخالف رویہ مزید گہرا ہی ہوا۔

سنہ 1949 میں چوری چپکے مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں اور پھر مسجد میں تالا لگا دیا گیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنہ 1949 میں چوری چپکے مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں اور پھر مسجد میں تالا لگا دیا گیا

بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی محض سٹائل ہی میں نہیں، بلکہ فکر کے معاملے میں بھی اپنے والد سے مختلف تھیں۔ نہرو ہندوؤں کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل چیلنج کرتے رہتے تھے۔ انھیں اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ہندوستان کو اصل خطرہ اکثریت کے مذہب کی قوم پرستی سے ہے۔

لیکن اندرا نے بنگلہ دیش کی جنگ سے شروع کرکے ایک نرم ہندو قوم پرستی کو غذا پہنچانا شروع کی۔