سرفراز احمد کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان: عمران خان کے بعد واحد پاکستانی کپتان جس نے 50 اوورز کی آئی سی سی ٹرافی جیتی

،تصویر کا ذریعہsocial media
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ان کے کرکٹ کیریئر کا اختتام ہو گیا ہے۔
کراچی میں پیدا ہونے والے سرفراز نے اپنا ون ڈے ڈیبیو 2007 میں کیا تھا۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ہر بچے کا خواب ہوتا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے لیے کھیلے اور ’میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پاکستان کے لیے کھیلنے کا موقع ملا۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سرفراز نے بتایا کہ ان کی کرکٹ کی شروعات عام گلیوں سے ہوئی جہاں وہ ٹینس بال سے کھیلنا شروع کرتے۔۔ ’میں نے اپنے محلے کے گراؤنڈ سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا اور پھر ٹیب بال اور آخرکار ہارڈ بال تک کا سفر طے کیا۔‘
سر فراز نے اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی بھر کرکٹر کے لیے کرکٹ کو خیر آباد کہنا باد آسان نہیں ہوتا، فیصلہ تو میں نے پہلے کر لیا تھا مگر ڈر تھا کہ یہ سب ختم ہو جائے گا تو ہو گا کیا۔۔۔ صبح اور دوپہر میں ٹریننگ کرنے نہیں جاؤْں گا تو کیسے چلے گا۔‘
’لیکن میں نے اپنے گھر والوں اور قریبی لوگوں سے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ اب آگے بڑھنا ہے اور پاکستان کے لیے اپنا تجربہ شیئر کرنا ہے۔‘
سر فراز نے انڈر-19 کپتانی کے تجربات یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ لمحے بہت یادگار تھے جب انھیں پہلی بار انڈر-19 کے لیے منتخب کیا گیا اور کپتان بنایا گیا تو انھوں نے اپنے والدین کو فون کرکے خوشخبری دی۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ’سخت تنقید سننی پڑتی ہے۔ محنت کرکے واپس آنا پڑتا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرے کیریئر میں اچھے لوگ موجود تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
سر فراز نے ڈومیسٹک کرکٹ کے سفر اور مشکلات پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا، ’ڈومیسٹک کرکٹ ایک لمبا سفر ہوتا ہے جہاں آپ ایک بال تھرو کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، کبھی کبھی مواقع نہیں ملتے، لیکن محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ آپ آگے بڑھتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ مواقع اور محنت کرنا دونوں ضروری ہیں، کیونکہ ’خوش قسمتی صرف اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو محنت کرتا ہے۔‘
انھوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ ’اگر آپ پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو سر جھکا کر کھیلیں، محنت کریں، ہر دن بہتر سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔ کبھی ایسا نہ سوچیں کہ اگر کارکردگی نہیں آئی تو آپ کرکٹ چھوڑ دیں۔ مستقل مزاجی اور محنت آپ کو موقع دیتی ہے۔‘
ان کے مطابق، ٹیم کی کامیابی کسی ایک کپتان یا کوچ کی وجہ سے نہیں بلکہ پوری ٹیم اور کھلاڑیوں کی لگن اور کارکردگی کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی اگر محنت کریں، مواقع کی قدر کریں اور سر جھکا کر کھیلیں تو وہ بھی اپنے خواب پورے کر سکتے ہیں۔
سر فراز نے کہا کہ وہ اب اپنے تجربات سے پاکستان کرکٹ کے نوجوان کھلاڑیوں کو رہنمائی دینے پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ ملک کے لیے بہترین کارکردگی پیش کر سکیں۔
ریٹائرمنٹ لینے کے بعد سابق سرفراز احمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین محسن نقوی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر محسن نقوی نے سرفراز احمد کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو سراہا اور ان کی محنت و لگن کی تعریف کی۔ چئیرمین پی سی بی نے سرفراز احمد کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔
محسن نقوی نے سرفراز احمد کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے اور آپ نے پاکستان کرکٹ کو کامیابیوں سے سرفراز کیا ہے۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نے مزید کہا کہ ’پاکستان کرکٹ ہمیشہ آپ کے احسانات کی مقروض رہے گی اور آپ کے تجربے اور صلاحیتوں سے استفادہ جاری رکھے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’سرفراز نے ناصرف کرکٹ میں شاندار شہرت حاصل کی بلکہ ایک غیر متنازع اور باعزت انسان کے طور پر بھی پہچانے گئے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرفراز احمد کے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے ساتھ ہی دنیا بھر سے کرکٹر اور شائقین انھیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
پاکستانی کرکٹر بابر اعظم نے لکھا ’سرفراز بھائی، آپ کی قیادت میں کھیلنا ایک اعزاز تھا۔ پاکستان کرکٹ کو دی گئی رہنمائی، یقین اور یادگار لمحات کے لیے شکریہ۔ آپ کی نئی زندگی کے باب کے لیے کامیابی کی دعائیں۔‘
پاکستانی کرکٹر شاداب خان نے لکھا کہ ’کچھ کپتان صرف ٹرافیاں جیتتے ہیں۔ کچھ ٹیم کے جذبے کو بدل دیتے ہیں۔ سرفراز بھائی نے دونوں کیا۔ 2017 آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی اٹھانے سے لے کر پاکستان کی قیادت کرنے تک، دل، یقین اور بے مثال توانائی کے ساتھ۔‘
انھوں نے لکھا ’آپ ہمیشہ میرے کپتان رہیں گے۔ شکریہ کپتان۔‘
انڈیا سے بلیو جرسی نامی اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’سرفراز نے کرکٹ کے جوتے اتار کر رکھ دیے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بعد سرفراز واحد پاکستانی کپتان ہیں جنھوں نے 50 اوورز کی آئی سی سی ٹرافی جیتی۔۔۔ 2017 کا فائنل آج بھی یاد آتا ہے تو رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘
کور پوائنٹ نامی اکاؤنٹ نے ایکس پر لکھا کہ ’سرفراز احمد کو ایک پیدائشی لیڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے اپنی ٹیم کو سخت جدوجہد کرنے پر مجبور کیا اور دستیاب وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ سپن کھیلنے والے بہادر کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔‘
کھیلوں کے صحافی سلیم خالق نے لکھا کہ ’پاکستان میں بہت کم کرکٹرز ایسے ہیں جو بڑے سٹار ہونے کے باوجود اچھے انسان بھی ہوں، وہ جو اپنی کامیابی کے عروج پر بھی زمینی حقائق کو نہ بھولیں اور کبھی خود کو دوسروں سے برتر نہ سمجھیں۔ سرفراز احمد انھی میں سے ایک ہیں۔‘
سلیم خالق نے لکھا کہ سرفراز نے نا صرف کرکٹ میں شاندار شہرت حاصل کی بلکہ ایک غیر متنازع اور باعزت انسان کے طور پر بھی پہچانے گئے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یہ صرف ٹرافیوں کی بات نہیں ہے بلکہ ہر میچ میں سرفراز احمد نے جو دل لگا کر کھیلا، وہی اصل کہانی ہے۔ ایک حقیقی وطن پرست، جس نے فرنٹ لائن سے قیادت کرتے ہوئے ہمارا پرچم بلند رکھا۔‘

،تصویر کا ذریعہx/BlueBulletin45
سرفراز احمد کے کیرئیر پر ایک نظر
سرفراز نے اپنا ون ڈے ڈیبیو 2007 میں کیا جبکہ ٹیسٹ اور ٹی20 انٹرنیشنل میں انٹری 2010 میں ہوئی۔
انھوں نے پاکستان کی نمائندگی 54 ٹیسٹوں، 117 ون ڈیز اور 61 ٹی20 میچز میں کی، جس دوران 6164 رنز بنائے، جن میں چھ سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
وکٹ کیپنگ کے دوران انھوں نے 315 کیچز اور 56 سٹمپنگز کیں۔
سرفراز نے پاکستان کی کپتانی 100 بین الاقوامی میچز میں کی (50 ون ڈیز، 37 ٹی20، 13 ٹیسٹ) اور ٹی20 رینکنگ میں پاکستان کو نمبر ون بنایا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 11 مسلسل ٹی20 سیریز جیتنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا اور چھ کلین سویپس کیں، جن میں ویسٹ انڈیز (2016 اور 2018)، سری لنکا (2017)، آسٹریلیا (2018)، نیوزی لینڈ (2018) اور سکینڈلینڈ (2018) شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرفراز کی کپتانی کے دوران کئی ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر قدم رکھا، جن میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، امام الحق، فہیم اشرف، فخر زمان اور شاداب خان شامل ہیں۔
انھوں نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 جتوانے میں کامیابی حاصل کی جہاں ٹیم نے فائنل میں انڈیا کو 180 رنز سے شکست دی۔ اس کے ساتھ سرفراز پاکستان کے پہلے کپتان بن گئے جنھوں نے چیمپئنز ٹرافی جیتی اور وہ واحد کپتان ہیں جنھوں نے جونیئر (2006 میں آئی سی سی انڈر 19) اور سینئر سطح پر آئی سی سی ٹائٹلز جیتے۔
ان کی خدمات اور چیمپئنز ٹرافی کی فتح کے اعتراف میں انھیں 2018 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔
اپنی انفرادی ریکارڈز کے بارے میں سرفراز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیسٹ میچ میں 10 کیچز لے کر پاکستان ریکارڈ قائم کیا (جنوب آف افریقہ کے خلاف 2019 میں)، اور وہ واحد پاکستانی وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں جنھوں نے لارڈز میں ون ڈے سنچری بنائی (انگلینڈ کے خلاف 2016 میں)۔
سرفراز نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف پرتھ میں ٹیسٹ میں کھیلا۔












