سمیع چوہدری کا کالم: 'سرفراز احمد پاکستان کے خوش قسمت ترین کپتان تھے'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
عموماً جب کرکٹ کپتانوں کی استعداد کا موازنہ کیا جاتا ہے تو ان کی فتوحات کی تعداد کو پیمانہ مانا جاتا ہے۔
مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتان اس لیے نہیں کہ وہ کرکٹنگ صلاحیتوں میں عمران خان اور عبدالحفیظ کاردار سے زیادہ باصلاحیت تھے بلکہ اس لیے کہ مصباح کی فتوحات کی تعداد دیگر سبھی پیشروؤں سے زیادہ ہے۔
لیکن اگر کپتانوں کی خوش قسمتی کا کوئی پیمانہ مقرر کیا جائے جس میں کہیں رکی پونٹنگ جیسے کپتان کو سٹیو واہ کی پالی پوسی لائق ٹیم ہاتھ آ جاتی ہے تو کہیں جیسن ہولڈر جیسے کپتان کو سالہا سال کی بگڑی ٹیم تھما دی جاتی ہے۔
سرفراز احمد سے متعلق یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر خوش بختی کے اس پیرائے میں دیکھا جائے تو سرفراز احمد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے خوش قسمت ترین کپتان تھے۔ انھیں جب کپتانی ملی تو پی ایس ایل اپنے قدم جما چکی تھی اور فخر زمان جیسے پلئیرز ٹیم کے دروازے پہ دستک دے رہے تھے۔
شاداب خان ہوں کہ عماد وسیم، جو بھی پی ایس ایل کے دھارے سے نکل کر قومی ٹیم کا حصہ بنا، اسے غرض نہیں تھی کہ کپتان کون ہے، اسے بس دنیا کے سامنے خود کو منوانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوں دھیرے دھیرے حسن علی، فخر زمان، شاداب خان اور عماد وسیم کی انفرادی کامیابیاں مل جل کر ٹیم کی فتوحات میں بدلنے لگیں۔
سرفراز کی خوش قسمتی رہی کہ انھیں مکی آرتھر جیسا کوچ اور رمیز راجہ جیسے مہربان مل گئے۔
مکی آرتھر نے ٹیم ڈسپلن اور فیلڈنگ میں اس قدر بہتری پیدا کی کہ پاکستان بہترین فیلڈنگ سائیڈز میں شمار ہونے لگا۔ رمیز راجہ مائیک پر سرفراز کے گن گاتے رہے اور میڈیا کا 'فرنٹ' کور کیے رکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرفراز کی خوش بختی یہ بھی رہی کہ پاکستان کرکٹ کے تین سب سے 'بڑے' سٹیک ہولڈرز یحییٰ حسینی، سکندر بخت اور شعیب اختر بھی ہمیشہ ان کے ہمنوا رہے اور شکست کی صورت میں صرف مکی آرتھر اور انضمام الحق کو ہی تختۂ مشق بناتے رہے۔
پاکستان کرکٹ نے چار انٹرنیشنل ٹائٹلز جیتے ہیں۔ سنہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خان اپنے عہد کے عظیم ترین آل راؤنڈر تھے۔ دوسرا ٹائٹل یونس خان لائے جو کامیاب ترین بلے باز اور بلا کے ذہین کپتان تھے۔ آئی سی سی ٹیسٹ میس جیتنے والے مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین کپتان تھے۔
جبکہ چوتھا آئی سی سی ٹائٹل جیتنے والے سرفراز احمد پاکستان کے خوش قسمت ترین کپتان تھے۔
یہ سب بہت بھلا چل رہا تھا لیکن جیسے بڑے بڑے میوزک بینڈز کامیابی کے اوج پر پہنچ کر اچانک ٹوٹ جاتے ہیں، ٹھیک ایک سال بعد یہ سہانے سپنے بھی ٹوٹنے لگے۔
چیمپئینز ٹرافی کی فتح کے بعد ابھی سری لنکا اور ورلڈ الیون کے خلاف سیریز جیت کر سرفراز اپنی اتھارٹی مستحکم کر ہی رہے تھے کہ اچانک ان کی آنکھ نیوزی لینڈ جا کر کھلی جہاں وہ پانچ صفر سے ون ڈے سیریز ہار گئے۔
اس کے بعد جو ہوا، وہی سرفراز کے کریئر کا پیٹرن بن گیا۔ ون ڈے اکا دکا ہار جیت ہوتی اور ٹی ٹونٹی میں پاکستان کسی کو دم نہ لینے دیتا۔ چونکہ ایف ٹی پی کے ہر ٹور کا اختتام ٹی ٹونٹی سیریز پر ہوتا ہے، سو سرفراز کا بھی ہر پراجیکٹ 'وننگ نوٹ' پر ختم ہوتا رہا۔ ٹیم واپس آتی تو میڈیا ٹی ٹونٹی کے کلین سویپ پر ناچ رہا ہوتا تھا جبکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کے نمبرز بھول چکا ہوتا تھا۔
لیکن جوں جوں مشکل دورے درپیش آئے، ینگسٹررز کو اشتہارات ملنے شروع ہوئے اور سٹارڈم کی چکا چوند سے پالا پڑا، انفرادی پرفارمنسز کا قحط پڑتا گیا۔ سرفراز خود ایسی کسی پرفارمنس کے قابل تھے نہ ہی ٹیم سے مزید ایسی پرفارمنسز پیدا کروانے کے۔
یہیں وہ نقطۂ زوال آیا جب جنوبی افریقہ کے دورے پر ڈریسنگ روم کے لڑائی جھگڑے میڈیا کی زینت بنے اور ون ڈے میں سرفراز نے پیلکوائیو کو وہ جملہ بول دیا جو کسی انٹرنیشنل کپتان کے شایانِ شان نہ تھا۔ کپتانی کے کرئیر میں پہلی بار سرفراز دونوں ٹیموں سے باہر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہClive Rose
اس کے بعد ون ڈے میں تو خیر معاملہ ملا جلا ہی رہا مگر جنوبی افریقہ کی سیریز کے بعد سے یہ ٹی ٹونٹی ٹیم بھی سرفراز کی گرفت سے جاتی رہی۔ رہی سہی کسر ورلڈ کپ سے عین پہلے ون ڈے میں شعیب ملک کی کپتانی نے پوری کر دی۔
احسان مانی نے سرفراز احمد کی برطرفی کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز ایک فائٹر تھے جو اچھے پلئیر اور متحرک کپتان تھے۔ احسان مانی نے اپنی یہ امید بھی ظاہر کی کہ بہت جلد سرفراز ٹیم میں واپس نظر آئیں گے۔
کاش وہ یہ نہ کہتے۔ اگر وہ یہ نہ کہتے تو سرفراز کم از کم ٹیم کا حصہ تو رہتے کیونکہ سرفراز عمر کے جس حصے میں ہیں اور جو ان کی فارم کا حال ہے، حقیقت یہی ہے کہ احسان مانی کی 'امید' ایک جھوٹے دلاسے کے سوا کچھ نہیں۔












