ایودھیا تنازع، ٹکراؤ یا سنہری موقع؟

ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو ہندو انتہاپسندوں نے 1992 میں منہدم کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایودھیا میں واقع بابری مسجد کو ہندو انتہاپسندوں نے 1992 میں منہدم کر دیا تھا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

’بابری مسجد رام جنم بھومی کا تنازع ایک خالصتاً قانونی معاملہ ہے اور اسے قانونی طریقے سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ دوسرا راستہ بات چیت کا ہے اور جب بات چیت ہوتی ہے تو اپنی اعلان شدہ پوزیشن سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔‘

یہ خیالات وزیرِ اعظم نریندر مودی سے قریب سمجھے جانے والے گجرات کے ایک سرکردہ بزنس مین اور مسلم رہنما ظفر سریس والا نے ظاہر کیے ہیں۔

ایودھیا کی بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو منہدم کی گئی تھی۔ اس کے مقام پر ایک عارضی مندر بنا ہوا ہے۔ مندر اور مسجد کا یہ تنازع ابھی تک حل نہیں ہو سکا اور ایک بار پھر اسے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

را م جنم بھومی کی تحریک کی علم بردار وشنو پریشد نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس متنازع زمین پر دعویٰ ترک کر دیں۔ پریشد کے ترجمان ڈاکٹر سریندر جین کہتے ہیں: ’یہ مسلمانوں کو طے کرنا ہے کہ وہ اپنی شناخت بابر اور غزنوی جیسے غیر ملکی حملہ آوروں سے کرنا چاہتے ہیں یا انھیں بھارت کے راشٹرواد سے جڑنا ہے؟‘

پریشد نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر آرڈیننس جاری کر کے متنازع زمین رام جنم بھومی کے حوالے کر دے۔

گذشتہ دنوں ہندوؤں کے اولین مذہبی رہنما شنکر اچاریہ سوامی جیئندر سرسوتی نے اس تنازعے کو بات چیت سے حل کرنے کے لیے لکھنؤ میں مسلمانوں کے ایک مذہبی رہنما سے ملاقات کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ پہل وزیر اعطم نریندر مودی کی ایما پر کی ہے۔

بابری مسجد کا مقدمہ 1949 سے عدالت میں ہے۔ ایودھیا کے ہاشم انصاری مقدمہ لڑتے لڑتے اب 92 برس کے ہو چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ اب عدالت کو جلد از جلد اور اس طرح کرنا چاہیے کہ متنازع زمین پوری کی پوری کسی ایک فریق کے حق میں جائے۔

کیا مسلمانوں کو اس زمین کے دعوے سے اب دست بردار ہو جانا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں: ’ہمیں شانتی چاہیے دیش میں۔ لے جاؤ بابری مسجد۔ ہمیں بابری مسجد نہیں چاہیے۔ ہمیں امن چاہیے۔‘

مولانا وحید الدین خان ملک کے سرکردہ عالمِ دین ہیں۔ وہ ابتدا سے ہی کہتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو بابری مسجد وہاں سے منتقل کر کے اس مسئلے کو حل کر لینا چاہیے: ’یہ مسجد اور مدرسے والے آج کے دور کو سمجھ نہیں رہے ہیں ورنہ یہ مسئلہ کب کا حل ہو گیا ہوتا۔ عرب ملکوں نے اس طرح کے تنازعوں کو ری لوکیٹ (منتقل) کر کے کب کا حل کر لیا ہے۔‘

سرکردہ شیعہ رہنما مولانا کلب جواد کہتے ہیں کہ دونوں برادریوں کے مذہبی رہنماؤں کی تنگ نظری کے سبب یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا: ’مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تنازعے کے بارے میں اپنے بڑے مذہبی رہنماؤں سے صلاح و مشورہ کریں اور اسے جلد حل کریں۔‘

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نہ وشنو ہندو پریشد بھارت کے سارے ہندوؤں کی نمائندگی کرتی ہے اور نہ ہی مسلم پرسنل لا بورڈ سبھی مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔

ان حالات میں آغاز کون کرے؟

ممتاز صوفی رہنما مولانا سید اشرف کچھوچھوی اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بابری مسجد وہاں سے منتقل کر لی جائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے اور دوسری عبادت گاہوں کے کے بارے میں کوئی تنازع نہیں اٹھے گا؟

ان کے خیال میں اس تنازعے کو عدالت ہی پر چھوڑنا سب سے موزوں راستہ ہے۔

مندر اور مسجد کا یہ تنازع 65 برس کے مقدمے کے بعد اب آخری فیصلے کے لیے سپریم کورٹ میں ہے۔ ہائی کورٹ نے جو فیصلہ سنایا تھا اسے اس مقدمے کے تینوں فریقوں نے چیلنج کیا ہے۔ فیصلہ آتے آتے برسوں اور شاید پوری دہائی لگ جائے۔

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعے نے بھارت کی سیاست اور معاشرے کو ایک طویل عرصے تک متاثر کیا ہے۔ بی جے پی پہلی بار اپنے زور پر مرکز میں اقتدار میں آئی ہے۔ رام جنم بھومی کی تعمیر اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

بھارت کی عدلیہ اور سرکاریں ایودھیا کے اس پیچیدہ مسلے کو حل کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سوال پر ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے ان پر دباؤ بڑھتا جائے گا، اور بہت ممکن ہے کہ اس تنازعے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے ان کی حکومت کو کچھ مشکل فیصلے کرنے پڑیں۔