بہار انتخابات میں اویسی کے آنے پر سوال

اسد الدین اویس شعلہ بیان مقرر ہیں اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشناسد الدین اویس شعلہ بیان مقرر ہیں اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ہیں
    • مصنف, سرور احمد
    • عہدہ, سنیئر صحافی، پٹنہ بہار

بہار کے اسمبلی انتخابات سے قبل اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین آگے کنواں پیچھے کھائی والی حالت میں پھنس گئی ہے۔

بہار کے شمال مشرقی علاقے کشن گنج جسے سیمانچل کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے وہاں مجلس کی 16 اگست کی ریلی کے بعد اس چاروں جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ بھی مسلمانوں کی جانب سے۔

اویسی کے ناقدین میں راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا کے سابق رکن ڈاکٹر اعجاز علی، معروف سرجن ڈاکٹر عبد الحی، ریٹائرڈ بیورکریٹ شفیع مشہدی، نوجوان رضاکار کاشف یونس (انھوں نے اویسی کی ریلی میں شرکت کی تھی)، سابق صحافی نیر فاطمی، بہار رابطہ کمیٹی سیکریٹری افضل حسین خان اور سماجی کارکن ارشد اجمل سرفہرست ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو کی پارٹی آر جے ڈی کے سابق رکن اسمبلی اخترالایمان کی پارٹی سماجی انصاف موچہ کے ساتھ اویسی کے اجتماع میں لوگوں کی قابلِ ذکر تعداد جمع ہو گئی تھی۔

ان میں سے ایک بڑی تعداد پڑوسی ریاست مغربی بنگال سے آئی تھی جہاں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے۔

بہار میں سیاست بہت حد تک تہ دار ہے اور مذہب کے علاوہ ذات پات کا سکہ بھی خوب چلتا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC PIB PTI

،تصویر کا کیپشنبہار میں سیاست بہت حد تک تہ دار ہے اور مذہب کے علاوہ ذات پات کا سکہ بھی خوب چلتا ہے

خیال رہے کہ اویسی کے جیسی سیاست بہت سے مسلمانوں کو قابل قبول نہیں ہے بطور خاص قدیم حیدرآباد اور مہاراشٹر کے بعض علاقوں کے باہر۔

تاہم بعض مسلمان جس طرح سے وہ میڈیا اور بطور خاص ٹی وی اینکرز کی باتوں کا جواب دیتے ہیں اس کی وجہ سے ان کے مداح نظر آتے ہیں۔

لیکن کشن گنج میں 16 اگست کی ریلی کے بعد بہار کے مسلمانوں میں ان کی تعریف کرنے والے حلقے میں بھی ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ ریلی کے 10 دن بعد وہ ان کے وہاں انتخابات لڑنے کے منصوبے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

لیکن نہ تو اختر الایمان اور نہ ہی مجلس نے ابھی حتمی اعلان کیا ہے کہ وہ کتنی نشستوں پر انتخاب لڑنے والے ہیں تاہم رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بہار میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں کم از کم دو درجن سیٹوں پر اسمبلی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ بہار میں 243 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ اویسی کے بہار کے سفر نے پڑوسی ریاست اترپردیش اور مغربی بنگال میں بھی بہت سے مسلمانوں کو چوکنا کر دیا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کے اکثریتی حلقے ہیں اور وہاں سنہ 2016 اور 2017 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات میں برسر اقتدار جماعت جے ڈی یو نے لالو پرساد کی پارٹی اور کانگریس کے ساتھ وسیع اتحاد کیا ہے
،تصویر کا کیپشنبہار اسمبلی انتخابات میں برسر اقتدار جماعت جے ڈی یو نے لالو پرساد کی پارٹی اور کانگریس کے ساتھ وسیع اتحاد کیا ہے

شعلہ بیان تقریر کرنا اور میڈیا کے سوالوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینا ایک بات ہے اور زمینی حقائق کے پیش نظر سیاست کرنا بالکل مختلف ہے۔

مسلمانوں نے مہاراشٹر کے انتخابات سے یہ جان لیا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی اور شیو سینا کو مدد ملی تھی اور مجلس صرف دو سیٹیں ہی جیت سکی تھی۔

اس کے باوجود مہاراشٹر سے بہار، مغربی بنگال اور اترپردیش کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جہاں مسلمان علاقائی سیکیولر پارٹیوں آر جے ڈی- جے ڈی یو اتحاد، ترنامول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

اویسی نے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے خلاف وہی انداز اپنایا جو انھوں نے مہاراشٹر میں بی جے پی اور کانگریس کے خلاف اپنایا تھا۔ بہار میں ان کی یہ حکمت عملی الٹی پڑ گئی۔ وہ ان علاقائی پارٹیوں کو مہاراشٹر کی کانگریس سے موازنہ نہیں کر سکتے۔

کشن گنج کے لوگ اب اچھی طرح جان گئے ہیں کہ باہر سے آنے والے لوگ اپنے مقاصد کے لیے ان کا کس طرح استعمال کرتے رہے ہیں۔

سب سے پہلے سفارتکاری سے سیاست کی جانب آنے والے سید شہاب الدین نے وہاں سے انتخاب میں شرکت کی پھر اس کے بعد معروف صحافی ایم جے اکبر اور اس کے بعد شاہنواز حسین پہلے کانگریس پھر بی جے پی کے امیدوار کی حیثیت سے۔ ان میں سے کوئی بھی اس مسلم اکثریتی علاقے سے نہیں تھے۔

لالو پرساد اور نتیش کمار کے ایک ساتھ آنے سے بی جے پي کے لیے انتخابات بہت آسان نہیں ہوں گے

،تصویر کا ذریعہmanish shandilya

،تصویر کا کیپشنلالو پرساد اور نتیش کمار کے ایک ساتھ آنے سے بی جے پي کے لیے انتخابات بہت آسان نہیں ہوں گے

لیکن اویسی نے کشن گنج پارلیمانی حلقے کے تحت آنے والے اسمبلی حلقے کوچہ دھمن کے سابق آرجے ڈی رکن اسمبلی اخترالایمان کا خوب استعمال کیا لیکن گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں وہ بہت حد تک وہاں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں کیونکہ انھوں نے دو مہینے کے اندر آرجےڈی اور جےڈی یو دونوں کو دھوکہ دیا۔

سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل انھوں نے آر جے ڈی کو چھوڑ دیا اور جے ڈی یو کا ٹکٹ حاصل کیا۔ آر جے ڈی انھیں وہاں سے ٹکٹ نہیں دے سکتی تھی کیونکہ وہاں پہلے سے ہی کانگریس کے کامیاب امیدوار مولانا اسرارالحق انتخاب لڑ رہے تھے اور انتخابات میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد تھا۔ دونوں ہی سورجا پوری مسلمان ہیں جو کہ اس علاقے میں اکثریت میں ہیں۔ انتخابات سے چند دن قبل انھوں نے پریس کانفرنس بلائی اور کہا کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں اس لیے وہ اپنا نام واپس لیتے ہیں۔

مسلمان کے حق میں اپنی امیدواری واپس لینے کے ان کے فیصلے نے پڑوسی ریاستوں مغربی بنگال، آسام اور اترپردیش میں بے جے پی کو بہت فائدہ پہنچایا کیونکہ ان کے بعد پانچ مرحلے کے انتخابات ابھی ہونے تھے۔

نریندر مودی نے حال ہی سیمانچل میں سہرسہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں بی جے پی کے لیے ووٹ کی اپیل کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے حال ہی سیمانچل میں سہرسہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں بی جے پی کے لیے ووٹ کی اپیل کی تھی

اخترالایمان کو منتخب کرنے کے اویسی کے فیصلے پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ وہ پپّو یادو سے بھی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ پپّو یادو آرجےڈی سے نکالے جانے والے مدھیہ پورہ کے سابق ایم پی ہیں اور حالیہ دنوں مسلمان ان کی سرگرمی کے بارے میں شک و شبہات سے دوچار ہیں۔

چند ماہ قبل ملک کی وزارت داخلہ نے پپّو یادو کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے اور اس کے علاوہ وہ بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں سے کھلے عام راہ و رسم رکھتے نظر آتے ہیں جن میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔

ان سب کے باوجود چند مسلم امیدوار ایسے بھی ہیں جنھیں دوسری پارٹیوں سے ٹکٹ ملنے کی امید نہیں اور وہ مجلس میں شامل ہو کر ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔