’مسلمانوں اور عیسائیوں کی زبردستی نس بندی ہونی چاہیے‘

سنجے راؤت نے وضاحت کی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے، بلکہ ان کی پارٹی کی رائے ہے

،تصویر کا ذریعہsanjayraut

،تصویر کا کیپشنسنجے راؤت نے وضاحت کی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے، بلکہ ان کی پارٹی کی رائے ہے
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت میں ہندو تنظیم شیو سینا کے رہنما کے مسلمانوں کو حق رائے دہی کے بیان پر ابھی تنقید کا سلسلہ جاری تھا کہ ہندو مہا سبھا کی ایک رہنما سادھوی دیوا ٹھاکر نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی زبردستی نس بندی کی بات کی ہے۔

شیوسینا کے رہنما اور ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں مہاراشٹرکی نمائندگی کرنے والے ایم پی سنجے راؤت نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو پانچ سال کے لیے ووٹ دینے کے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔

اتوار کو شیو سینا کے نظریات کی ترجمانی کرنے والے اخبار ’سامنا‘ میں انھوں نے یہ باتیں لکھیں جن پر کئی حلقے سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

سادھوی آل انڈیا ہندو مہا سبھا کی نائب صدر ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق انھوں نے کہا: ’دن بہ دن مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے مرکز کو ایمرجنسی نافذ کرکے مسلمانوں اور عیسیائیوں کی زبردستی نس بندی کرنی ہوگي تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔‘

سنجے راؤت کا مضمون شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں اتوار کو شائع ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسنجے راؤت کا مضمون شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں اتوار کو شائع ہوا

انھوں نے ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی تاکہ دنیا پر ان کے اثرات ہوں اس کے علاوہ انھوں نے مسجدوں اور گرجا گھروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھنے کی بات بھی کہی۔

شیو سینا رہمنا راؤت نے اپنے مضمون میں مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کو ذمے دار ٹھہرایا اور لکھا کہ اس کے لیے بعض ’سخت فیصلے‘ لینے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں سنجے راؤت نے کہا: ’بالا صاحب (ٹھاکرے) نے کہا تھا کہ کچھ وقت کے لیے ان کے ووٹ دینے کا حق ہم ختم کریں تو ان کے ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے رہنماؤں کی دکان بند ہو جائے گی۔‘

انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’مسلمانوں کے ووٹوں کا ذمہ اویسی (مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما) نے لیا ہے پہلے یہ ٹھیکہ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام نے لیا تھا، بعد میں ملّا ملائم (اترپردیش کے سماجوادی پارٹی رہنما ملائم سنگھ یادو) نے لے لیا تھا۔‘

انھوں نے مجلس اتحادالمسلمین کی سخت تنقید کی اور اویسی برادران کو ’سنپولے‘ اور پارٹی کو ’سانپ کا بل‘ قرار دیا۔

شیوسینا لیڈر نے بھی اپنے مضمون میں مسلمانوں کی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا کہ ’یہ ملک آئندہ 50 برسوں میں اسلامی ملک بن جائے گا، اویسی کا خواب پاکستان بنانا ہے اور وہ آندھراآ کر اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔‘

سادھوی دیوا سے قبل بھارت میں وفاقی وزیر سادھوری نرنجن جیوتی کا متنازع بیان ’رامزادوں کی حکومت چاہیے یا ۔۔۔۔زادوں کی؟‘ آیا تھا

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنسادھوی دیوا سے قبل بھارت میں وفاقی وزیر سادھوری نرنجن جیوتی کا متنازع بیان ’رامزادوں کی حکومت چاہیے یا ۔۔۔۔زادوں کی؟‘ آیا تھا

انھوں نے تیلنگانہ اسمبلی کے رکن اکبرالدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: ’اویسی ادھو (شیوسینا صدر ادھو ٹھاکرے) کو حیدرآباد آنے کے لیے چیلنج کرتے ہیں لیکن ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حیدرآباد کسی لاہور، کراچی اور پشاور میں تو نہیں ہے وہ ہندوستان میں ہے۔ مراٹھوں کا پرچم سرحد پار پاکستان اور افغانستان کے قندھار تک لہرایا تھا۔‘

کانگریس نے راؤت کے بیان کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق کانگریس رہنما ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ ’ایسے بیانات سننا قابل نفرت ہے۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں کسی طالبانی ملک میں نہیں۔‘

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے میڈیا سے بات چیت میں کہا: ’یہ غیر آئینی ہے۔ اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد پورے ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنانا ہے۔‘

اس سے قبل بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج نے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی اور مدارس کو ملک دشمن قرار دیا تھا

،تصویر کا ذریعہPress Trust of India

،تصویر کا کیپشناس سے قبل بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج نے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی اور مدارس کو ملک دشمن قرار دیا تھا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے ان بیانات کو ’قانون کی خلاف ورزی‘ سے تعبیر کیا۔

دہلی اسمبلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی نے سنجے راؤت کی گرفتاری کے ساتھ شیوسینا کی پارٹی کا ریجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنجے راؤت نے وضاحت کی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے، بلکہ ان کی پارٹی کی رائے ہے۔

ادھر دہلی میں ایک وکیل شہزاد پوناوالا نے قومی اقلیتی کمیشن اور الیکشن کمیشن میں راؤت کے اس بیان کی شکایت کی ہے۔