انڈیا ڈائری

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

ماہی گیروں کے اچھے دن آگئے

پاکستان کو شاید مسٹر مودی کے وزیر اعظم بننے پر اتنی خوش ہوئی کہ اس نے شگون کے طور پر ایک 151 ماہی گیر رہا کردیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان کو شاید مسٹر مودی کے وزیر اعظم بننے پر اتنی خوش ہوئی کہ اس نے شگون کے طور پر ایک 151 ماہی گیر رہا کردیے

نریندر مودی نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری کے لیے کیا مدعو کر لیا، ماہی گیروں کے مزے آنا شروع ہوگئے۔ ابھی ایسا تو نہیں ہے کہ مچھلیاں اب خود چل کر ان کے پاس آیا کریں گی، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں یہ بھی ہو جائے، لیکن فی الحال پاکستان نے نذرانہ عقیدت کے طور پر کچھ ہندوستانی ماہی گیروں کو رہا کر دیا ہے۔

جب ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کی تاج پوشی میں شریک ہوتا ہے تو اپنے ساتھ نادر تحفے تحائف لے کر آتا ہے، یہ ہی شاہی طور طریقوں کا تقاضہ ہے۔ حکومت پاکستان کو شاید مسٹر مودی کے وزیر اعظم بننے پر اتنی خوش ہوئی کہ اس نے شگون کے طور پر ایک 151 ماہی گیر رہا کردیے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ان غریب مگر خطرناک ماہی گیروں کو پکڑنے میں حکومتوں کو کتنی مشقت کرنا پڑتی ہے۔

شاید ان لوگوں کو دشوارگزار سمندروں سے اسی لیے پکڑا جاتا ہے کہ خوشی کے ایسے موقعوں پر رہا کیا جاسکے!

پاکستان کو جوہری بم کی دھمکی

اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو انڈیا کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشناودھو ٹھاکرے نے کہا کہ اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو انڈیا کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

مسٹر مودی کی تقریب حلف براداری پہلے لمحے سے ہی تاریخ ساز ثابت ہوئی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ شو سینا کے رہنما اودھو ٹھاکرے، جو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچوں کی مخالفت کرتے ہیں، ایک دوسرے کے اتنے قریب آئے ہوں۔ صدارتی محل میں دونوں ایک دوسرے سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھے تھے۔

اس تقریب میں شرکت سے پہلے ہی مسٹرٹھاکرے نے یہ واضح کردیا تھا نواز شریف کو بھلے ہی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہو، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام گلے شکوے دور ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو انڈیا کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

شاید اسی لیے نریندر مودی نے وزارت دفاع کا قلمدان اپنے سب سے قریبی معتمد کو دیا ہے!

پاکستانیوں اور خاص طور پر ان کی کرکٹ ٹیم کا کہیں ذکر بھی ہو تو شو سینا پچ کھودنا شروع کر دیتی ہے۔ اس بات کی تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ حلف برداری کی تقریب کے لیے جو غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، ان کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ کہیں شو سینا کے لیڈر کھدائی کے لیے استعمال ہونے والے آلات راشٹر پتی بھون کے اندر لے جانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ مسٹر شریف کو دیکھ کر جوہری بم استعمال ہوتے نہ ہوتے، صدارتی محل کا سارا لان ضرور برباد ہو جاتا!

میرے پاس بھی ماں ہے!

مودی نے اپنی والدہ کے ہاتھ سے مٹھائی کھائی تو ٹی وی پر یہ مناظر ان کی(نواز شریف کی) والدہ نے بھی دیکھے اور وہ کافی جذباتی ہوگئیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمودی نے اپنی والدہ کے ہاتھ سے مٹھائی کھائی تو ٹی وی پر یہ مناظر ان کی(نواز شریف کی) والدہ نے بھی دیکھے اور وہ کافی جذباتی ہوگئیں

حلف اٹھانے کے بعد نریندر مودی اور نواز شریف کی پہلی ملاقات ہوئی۔ اس کی تفصیل مسٹر مودی نے ٹوئٹر کے ذریعہ دنیا کو بتائی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ جب نریندر مودی الیکشن جیتنے کے بعد اپنی ماں سے ملنے گئے، اور انہوں نے اپنی والدہ کے ہاتھ سے مٹھائی کھائی تو ٹی وی پر یہ مناظر ان کی(نواز شریف کی) والدہ نے بھی دیکھے اور وہ کافی جذباتی ہوگئیں۔

یہ کہانی سن کر امیتابھ بچن کی سوپرہٹ فلم ’دیوار‘ کی یاد تازہ ہوگئی۔ امیتابھ اور ششی کپور دو بھائی ہیں جو زندگی میں الگ الگ راستے اختیار کرتے ہیں۔ امیتابھ بڑے ڈان بن کر بہت دولت کما لیتے ہیں۔ ششی کپور ایک اصول پسند پولیس افسر بن جاتے ہیں۔

پھر ایک دن دونوں کا سامنا ہوتا ہے اور امیتابھ اپنے چھوٹے بھائی سے پوچھتے ہیں: میرے پاس عزت ہے، دولت ہے، گاڑی ہے بنگلہ ہے۔۔۔۔تیرے پاس کیا ہے؟

ششی کپور جواب دیتے ہیں: میرے پاس ماں ہے۔

نریندر مودی اور نواز شریف کی فلم میں امیتابھ بچن کون ہے، یہ فیصلہ تو آپ خود ہی کیجیے، لیکن اس کہانی میں دونوں کے پاس ماں ہے!

نواز شریف نے انڈیا میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں بہت مماثلت ہے۔ ایک کی نشاندہی اور تصدیق تو ہوگئی، باقی کا پتہ لگانے کے لیے اب انہیں دوبارہ جامع مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کردینا چاہیے!