مودی کو ماں کے ساتھ دیکھ کر نواز شریف کی ماں جذباتی

،تصویر کا ذریعہMaryam Nawaz Sharif
بھارت کے 15ویں وزیر اعظم کے طور پر نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی موجودگی اور دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اُن کی ماؤں کے بارے میں بات چیت پر انتہا دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔
جہاں پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے والد کا ان کی زندگی میں کردار اور اثر بہت زیادہ موضوعِ بحث رہا ہے وہیں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ان کی والدہ کا ذکر آیا ہے۔
اس خبر کے بعد ہم نے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا تو انہوں نے اذراہِ کرم بی بی سی کے قارئین کے لیے میاں نواز شریف کی ان کی والدہ کے ساتھ ایک تصویر خصوصی طور پر بھجوائی ہے جو آپ اوپر دیکھ سکتے ہیں۔
حلف لینے کے بعد مودی نے ٹوئٹر کے ذریعے نواز شریف کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت شيئر کی۔ بہر حال انھوں نے ٹوئیٹ میں بات چیت کے ذاتی اور جذباتی پہلو کو ہی تحریر کیا۔
نریندر مودی کی جانب سے کی جانے والی یہ چار ٹویٹس اب 10871 بار ری ٹویٹ اور 17132 بار فیورٹ یعنی پسند کی جاچکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دیر رات کیے جانے والے اپنے کئی ٹویٹس میں نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ اپنی بات چیت کے کچھ حصے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پیش کیا۔
نریندر مودی نے لکھا: ’آج شام وزیر اعظم نواز شریف نے بات چیت کے دوران انتہائی جذباتی باتیں کیں۔ نواز شریف جی نے بتایا کہ وہ اسلام آباد میں رہتے ہیں لیکن اپنی ماں سے ملنے ہفتے میں ایک بار ضرور جاتے ہیں۔‘
مودی نے ٹویٹ میں کہا: ’اس بار جب وہ اپنی ماں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے تو انھوں نے ٹی وی پر میری ماں کو مجھے مٹھائی کھلاتے ہوئے دیکھا۔ اس ویڈیو نے شریف جی اور ان کی ماں کو بہت جذباتی کردیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید لکھا: ’انھوں (نواز شریف) نے مجھے بتایا کہ اس ویڈیو کو دیکھ کر ان کی ماں فرط جذبات سے مغلوب ہو گئیں۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کے کئی سربراہان پیر کی شام نئی دہلی کے ایوان صدر کے صحن میں نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
منگل کو نواز شریف اور بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان باضابطہ بات چیت ہو نے والی ہے۔
دونوں ہی ممالک میں ان دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والی بات چیت کو انتہائی تجسّس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے اور اس میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔
نئی دہلی کے لیے روانہ ہونے سے پہلے پاکستان میں نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ ’امن کا پیغام لے کر بھارت جا رہے ہیں۔‘







