’میرے ٹیکس کا پیسہ تعلیم پر خرچ ہو فوج پر نہیں‘

بھارتی فنکار پٹنائک کا بنایا ہوا مودی اور نواز شریف کا یہ ریت کا فنپارہ پوری کے ساحل پر بنایا گیا جس پر لکھا ہے ’امن کو ایک موقع ملا‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارتی فنکار پٹنائک کا بنایا ہوا مودی اور نواز شریف کا یہ ریت کا فنپارہ پوری کے ساحل پر بنایا گیا جس پر لکھا ہے ’امن کو ایک موقع ملا‘
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف براداری میں شرکت کا فیصلہ کرنے پر جہاں ہر طرف سے مبارک سلامت وصول ہو رہی ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے تندو تیز حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک بڑی اکثریت نے اس دورے کی حمایت کی جیسا کہ زبیر فیصل عباسی نے ٹویٹ کی کہ ’لگتا ہے کہ پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کے دورۂ بھارت پر مکمل سیاسی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے تاکہ وہ حالات اور ماحول کا جائزہ لے سکیں۔‘

دوسری جانب عثمان غنی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں نوازشریف کے دورۂ بھارت کی حمایت کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ٹیکس کا پیسہ میرے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہو نہ کہ فوج پر۔ یہ سمجھنا کتنا مشکل ہے؟‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’وزیراعظم نواز شریف کے دورۂ بھارت نے خطے میں امن کے لیے ایک مثبت پیغام بھجوایا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اس خوش آمدید کہنا چاہیے اور اس کی حمایت کرنی چاہیے۔‘

بھارتی صحافی کنل موجمدار نے ٹویٹ کی کہ ’پاکستانی تناظر میں نواز شریف کا وزیراعظم مودی کی حلف برداری دورۂ بھارت خوش آئند ہے مگر اب تک صرف ایک قدم ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹس میں مریم نواز شریف کے مبینہ ’خفیہ تبصرے‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹس میں مریم نواز شریف کے مبینہ ’خفیہ تبصرے‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا

تحریک انصاف کے کارکنوں میں سے کئی نے اس دورے پر تبصرے کیے جہاں ایک کے خیال میں ’منموہن سنگھ ان کی دعوت پر نہیں آئے تو یہ کیوں جائیں‘ اور دوسرے کا خیال تھا کہ ’انتخابی مہم کے دوران مودی پاکستان مخالف بیانات دیتے رہے ہیں تو ان کی دعوت کیوں قبول کی جائے۔‘

اس سے قبل وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی بھارتی میڈیا سے بات چیت پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو شدید ناگوار گزری جنھوں نے اس پر ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ مریم نواز شریف کو وزیرخارجہ بنانے کےلیے تیار کیا جا رہا ہے۔

شیریں مزاری نے ٹویٹ کی کہ ’یہ مضحکہ خیز ہے کہ نواز شریف نے خارجہ پالیسی کو خاندانی معاملہ بنا لیا ہے جب پہلے مریم نواز شریف اور اب ان کا بیٹا دورۂ بھارت پر تبصرہ کر رہا ہے۔‘

اس پر مزید اعتراض یہ تھا کہ’مریم نواز شریف نے بھارتی میڈیا کو خفیہ طور پر کمنٹ دیا ہے تو پاکستانی میڈیا سے کیا چھپانا؟‘

اس کے جواب میں یسریٰ عسکری نے ٹویٹ کی کہ ’مجھے شدید دھچکہ لگا مریم کے پاکستان بھارت پر خفیہ کمنٹ دینے پرجو انھوں نے ٹوئٹر پر خفیہ طور پر دیا۔ تعجب انگیز انکشاف۔‘

اس کے علاوہ وزیراعظم کے بھارت جانے سے پہلے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے یا نہ پینے پر بحث ہوتی رہی اور آصفہ بھٹو زرداری نے ٹویٹ کی کہ ’وزیراعظم کو بھارت جانے سے قبل دو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پی کر ایک مثال قائم کرنی چاہیے جس سے بہت مثبت پیغام دنیا تک جائے گا۔ رہنما ہی مثال قائم کرتے ہیں۔‘

عمیر خان کا خیال تھا کہ ’نواز شریف کو بھارت میں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے مگر کاش وہ شلوار قمیض پہنتے۔‘