ہجوم کی جنگجوئیت کا دور شروع

اس ہندو اجتماعی جنگجوئیت کا نشانہ بھلے ہی کوئی محمد اخلاق اور اعجاز احمد ہوں لیکن اس کا حقیقی مقصد اس ملک کی مشترکہ تہذیبی وراثت کو تباہ کرنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس ہندو اجتماعی جنگجوئیت کا نشانہ بھلے ہی کوئی محمد اخلاق اور اعجاز احمد ہوں لیکن اس کا حقیقی مقصد اس ملک کی مشترکہ تہذیبی وراثت کو تباہ کرنا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

دلی کے نواح میں دادری میں محمد اخلاق اوران کے گھر والوں پر انھیں کے گاؤں والوں کے قاتلانہ حملے سے تین روز قبل کانپور میں ہندوؤں کےایک ہجوم نے ایک مسلم نوجوان کو پاکستانی دہشتگرد کہہ کر قتل کردیا تھا۔

اس نوجوان کو کئی گھنٹےتک مارا گیا ۔ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس شخص کو سینکڑوں بچوں اور عورتوں کی موجودگی میں انتہائی وحشیانہ طریقے سے ہلاک کیا گیا۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بربریت کا یہ سنگین واقع بھی دادری کی طرح ایک منظم طریقے سے پھیلائی گئی افواہ کی بنیاد پر انجام دیا گیا تھا۔

گائے کا گوشت کھانے کی افواہ کے بعد پیش آنے والا دادری کا واقع مذہبی اقلیتوں کےخلاف نفرت کی سیاست کا کوئی تنہا اور الگ تھلگ واقع نہیں ہے۔ مرکزی وزیر ثقافت مہیش شرما کے مطابق محمد اخلاق کا قتل محض ایک حادثہ ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس نے جن نوجوانوں کو محمد اخلاق، ان کے بیٹے اور گھر والوں پر حملے کےالزام میں گرفتار کیا ہے انھیں بھی انصاف دلایا جائےگا۔

سوشل میڈیا پہ نفرت کی ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ بہت سےلوگ دادری کے واقع کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ بہت سے پیغامات میں گائےکشی روکنے کےلیے اس طرح کے مزید حملوں کےلیے لوگون کو ترغیب دی جا رہی ہے۔

یہ واقع یو پی میں پیش آیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے ابھی تک صرف یہ بیان سامنے آیا ہےکہ ’اگر وزیر اعظم مودی میں اتنی ہمت ہے تو وہ گوشت کی برآمدات پر پابندی لگا کر دکھائیں۔‘

ان واقعات میں مذہبی سخت گیریت کے ساتھ ایک اور پہلو مشترک رہا ہے ہجومی جنگجوئیت

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان واقعات میں مذہبی سخت گیریت کے ساتھ ایک اور پہلو مشترک رہا ہے ہجومی جنگجوئیت

مودی نے اس واقع پر ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر بحث و مباحثے میں پارٹی کے ترجمان دادری کی ہجومی بربریت کی مشروط مذمت کرتے ہیں۔

پارٹی کے ایک رہنما نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ محض افواہ کی بنیاد پر کسی ہجوم کے ذریعے کسی کا مارا جانا صحیح نہیں ہے۔ یعنی ان کے مطابق اگر افواہ صحیح ہوتی تو ہجوم کو کسی کا قتل کرنے کا اختیار ہے۔

انھوں نے اسی مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ اعتدال پسند مسلمانوں نے ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ ثقافت کے وزیر مہیش شرما پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت کے مسلمان ملک سے محبت نہیں کرتے۔ صرف ہندو ہی محب وطن ہیں۔

بھارت کی مذہبی اقلیتوں، ان کے مذاہب، کھانے پینے ان کے طور طریقوں کو ایک عرصے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کئی ہندو تنظیمں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف مختلف سطحوں پر نفرت کی تبلیغ میں مصروف رہی ہیں۔

آر ایس ایس جیسی ہندو تنطیموں سے انھیں نظریہ اور طاقت مل رہی ہے۔ بی جے پی کا ایک طبقہ ان عناصر کا حمایتی رہا ہے۔

بھارت کے دانشور اور سیکولر جماعتیں اس ہندو ہجومی جننگجوئیت کے ابھرتے ہوئے تصور کومحض بی جے پی کی انتخابی چال سمجھ کر اسے نظر انداز کرتی رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے پیغامات میں گئیوکشی روکنے کےلیے اس طرح کے مزید حملوں کےلیے لوگون کو ترغیب دی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر بہت سے پیغامات میں گئیوکشی روکنے کےلیے اس طرح کے مزید حملوں کےلیے لوگون کو ترغیب دی جا رہی ہے

اس نئی مذہبی اجتما‏عی جنگجوئیت کو مسلمانوں کےخلاف بعض ہندو تنطیموں کا وقتی ردعمل سمجھ کر مسترد کیا جاتا رہا۔

پچھلےکچھ عرصے میں کئی معقولیت اور اعتدال پسندوں کی ہلاکت، مصنفوں، دانشوروں کو دھمکیاں دینے، پکچر ہال پر حملے، پینٹنگز کی نمائش پر حملے اور کتابوں کی اشاعت رکوانے جیسے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ان واقعات میں مذہبی سخت گیریت کے ساتھ ایک اور پہلو مشترک رہا ہے، ہجومی جنگجوئیت۔

اس ہندو اجتماعی جنگجوئیت کا نشانہ بھلے ہی اس وقت کوئی محمد اخلاق اور اعجاز احمد ہوں لیکن اس کا حقیقی مقصد اس ملک کی روادار، اعتدال پسند اور کھلی جمہوری اقدار اور مشترکہ تہذیبی وراثت کو تباہ کرنا ہے۔

دادری کی بربریت پر بی جے پی کی مرکزی حکومت کی خاموشی اور اس کے اقتدار میں رہنےسے اس اجتماعی ہجومی جنگجوئیت اور مذہبی سخت گیریت کو وقتی طور پر بھلے ہی تقویت مل رہی ہو لیکن بھارتی ثقافت، لبرل اقدار اور جمہوری روایات ہجومی جنگجوئیت اور تنگ نظر تصورات سے کہیں بالاتر ہیں۔ انسانی تاريخ میں اس طرح کے تاریک دور آتےاور جاتے رہے ہیں۔