ہندو مسلمان آپس میں نہیں، غربت سے لڑیں: مودی

،تصویر کا ذریعہPTI

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے داردی میں گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں ایکمسلمان کی ہلاکت کے واقعے کے دو ہفتے بعد اس بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جمعرات کو ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھوں نے آپس میں لڑنا ہے یا غربت سے۔

دادری کے واقعے کی براہِ راست مذمت کیے بغیر نریندر مودی نے کہا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کو غربت کے خلاف لڑنا چاہیے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں اور دیگر حلقوں کی طرف سے وزیر اعظم پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اس واقعے کی مذمت کریں۔

بہار میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے عوام سے کہا کہ وہ سیاست دانوں کی طرف سے دیے جانے والے غیر مہذبانہ بیانات پر دھیان نہ دیں۔

ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس کو ذبح کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ اتر پردیش کے قریب ایک گاؤں دادری میں انتہا پسند ہندوؤں کے ایک ہجوم نے محمد اخلاق نامی شخص کے گھر پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا تھا، جبکہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا تھا۔

مودی کی حکومت ملکی سطح پر گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کرنے کی حامی ہے لیکن مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں گائے کا گوشت کھاتی ہیں۔

ادھر کشمیر میں مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی اسمبلی میں ایک مسلمان رکن کو اپنے گھر دعوت میں مہمانوں کی گائے کے گوشت سے تواضع کرنے پر زد و کوب کیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI

کشمیر اسمبلی کے رکن رشید احمد نے کہا کہ انھوں نے اپنی نجی محفل میں مہمانوں کو بطورِ احتجاج گائے کا گوشت کھلایا تھا۔

حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ نے اسمبلی کے اجلاس سے یہ کہہ کر واک آؤٹ کیا کہ انھیں ہر اس شخص پر حملہ کر دینا چاہیے جو شراب پیتا ہے یا سؤر کا گوشت کھاتا ہے۔

اسمبلی میں بی جے پی کے نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ رکن اسمبلی پر حملے کی تائید نہیں کر سکتے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ گائے کے گوشت سے تواضع کرنا درست نہیں۔