بہار میں بی جے پی کی گاڑی سے سنکھ اور اذان ساتھ ساتھ

- مصنف, سلمان راوی
- عہدہ, بی بی سی نمائندہ، بیگوسرائے سے
بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے بیگو سرائے ضلعے میں جمعہ کی صبح لوگ اس وقت حیران ہوگئے جب پاس سے گزرنے والی ایک جیپ سے اذان کی آواز سنائی دی۔ جب لوگوں نے مڑ کر دیکھا تو اس جیپ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پرچم لگے ہوئے تھے۔
یہ تو سمجھ میں آ گیا کہ یہ انتخابی مہم میں شامل گاڑی ہے لیکن جب یہ پتہ چلا کہ یہ بی جے پی کی پرچار گاڑی ہے تو لوگوں کی حیرت مزید بڑھ گئی۔
جمعرات کو بہار کے نوادہ انتخابی حلقے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی ریلی میں دارالحکومت دہلی سے ملحق دادری معاملے پر پہلی بار اپنی زبان کھولی تھی اور اس کے بعد پارٹی کی تشہیر کے سُر ہی بدل گئے۔
<link type="page"><caption> گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150930_utarpradesh_beef_man_killed_zh" platform="highweb"/></link>
اس کے بعد نہ تو ساکشی مہاراج، نہ گری راج سنگھ اور نہ ہی یوگی آدتیہ ناتھ (شعلہ بیان ہندو رہنماؤں) کے بیان سنائی دیے۔
انتخابی مہم میں شامل پارٹی کی گاڑی سے سنکھ اور اذان دونوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ گیتا کی بات بھی ہو رہی ہے اور قرآن کی بات ہو رہی ہے۔
مودی کے بیان کا اثر

یہ سب کچھ صرف ایک دن میں ہی ہو گیا۔ نوادہ انتخابی ریلی میں مودی نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے آپس میں لڑنے کے بجائے غربت سے لڑنے کی اپیل کی تھی۔
مودی نے نوادہ سے پہلے مونگیر اور بیگوسرائے میں ہونے والے عوامی جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین پر شدید حملے کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس بارے میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کا بیان رنگ لایا اور کئی دنوں سے بہار میں جاری سیاسی بیان بازی پر وزیر اعظم نے اپنی خاموشی توڑی۔
مودی کے بیان کا فوری اثر کارکنوں پر بھی نظر آنے لگا۔ ایسا لگا کہ سب کچھ اچانک تبدیل کر دیا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہPTI
بی جے پی کے کارکن شيام نندن سنگھ اسی تشہیر والی گاڑی پر سوار تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوا؟
ان کا جواب تھا: ’سنا نہیں، مودی جی نے کل نوادہ میں کیا کہا ؟ آج سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ غریب کا کوئی مذہب ہوتا ہے کیا؟ غریبی کے خلاف لڑنا ہے۔ سب مل جل کر مقابلہ کریں گے۔‘
سیاسی تجزیہ نگار اچانک آنے والی اس تبدیلی سے حیرت زدہ ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم پر صدر کے بیان کا ہی اثر ہوا ہو!
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نتیش کمار کے اس ٹویٹ کا اثر ہوا ہو، جس میں انھوں نے مودی کو راج دھرم کی بات یاد دلائی تھی۔
وجہ جو بھی ہو بی جے پی کی انتخابی مہم کی گاڑیوں سے اب محبت کے پیغام سنائی دے رہے ہیں۔







