بھارت کے ادبی حلقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری

ناول نگار ششی دیش پانڈے نے اکیڈمی کی خاموشی پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے استعفی دے دیا ہے

،تصویر کا ذریعہImran Qureshi

،تصویر کا کیپشنناول نگار ششی دیش پانڈے نے اکیڈمی کی خاموشی پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے استعفی دے دیا ہے

بھارت کی معروف ناول نگار ششی دیش پانڈے نے ملک کے سب سے بڑے ادبی ادارے ساہیتہ اکیڈمی کی گورننگ کونسل سے استعفی دے دیا ہے۔

اس سے قبل بھارت کی کئی معروف ادبی شخصیات نے بھارت میں اکثریتی فرقے کی جانب سے روزا‌فزوں جارحیت کے خلاف اپنے باوقار ساہتیہ اکیڈمی اعزازات کو بطور احتجاج واپس کر دیا ہے۔

<link type="page"><caption> مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151007_award_returned_protesting_modi_mb" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بھارت: بنیاد پرستی کے مخالف ماہرِ تعلیم کا قتل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150830_india_dr_kalburgi_killed_sq" platform="highweb"/></link>

ششی دیش پانڈے نے کہا ’اکیڈمی نے کنڑ زبان کے (معروف) ادیب ڈاکٹر ایم ایم كلبرگي کے انتقال پر افسوس تک ظاہر نہیں کیا۔‘

نین تارا سہگل بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی بھانجی ہیں
،تصویر کا کیپشننین تارا سہگل بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی بھانجی ہیں

ششی دیش پانڈے نے ساہیتہ اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر وشوناتھ پرساد تیواری کو ارسال کیے جانے والے اپنے خط میں لکھا: ’اگر اکیڈمی جو ملک کا اہم ادبی ادارہ ہے، ایک مصنف کے خلاف تشدد کے اس طرح کے ایک واقعے پر کھڑی نہیں ہو سکتی، اگر اکیڈمی اس طرح کے حملے پر خاموش رہتی ہے، تب ہم اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری سے لڑنے کی توقع کیسے کریں؟‘

دیش پانڈے نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا، انتظار کیا۔ میں نے سوچا اظہار کی آزادی پر وہ کچھ کہیں، اختلاف کے حق پر کچھ کہیں گے۔ ایک مصنف اور ادبی انسٹی ٹیوٹ کے لیے یہ اہم مسائل ہیں۔ میں بیوقوف ہو سکتی ہوں کیونکہ یہ ادارے اپنے ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں وہاں رہ کر کچھ کر رہی ہوں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران بھارت کے تین مصنف اودے پرکاش، نين تارا سہگل اور اشوک واجپئی نے ملک میں ’تنوع اور بحث و مباحثے پر بدنیتی کے ساتھ حملے‘ کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے باوقار ادبی ایوارڈ واپس کر دیے ہیں۔

اشوک واجپئی ہندی کے معروف شاعر اور ادیب ہیں

،تصویر کا ذریعہAshok Vajpeyi

،تصویر کا کیپشناشوک واجپئی ہندی کے معروف شاعر اور ادیب ہیں

ہندی کے معروف شاعر اشوک واجپئی نے اپنا ایوارڈ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا ہے کہ حکومت ’عوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت ہندو شدت پسندوں کو اقلیتوں اور مصنفوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کر رہی ہے۔

سہگل نے ایک بیان بعنوان ’ان میکنگ آف انڈیا‘ میں گذشتہ ہفتے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے ساتھ ایم ایم کالبرگی، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کا ذکر کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام مذہبی برادریوں کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے لیکن انھوں نے ابھی تک ان حالیہ حملوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔