شیوسینا کی مخالفت کے بعد غلام علی کا پروگرام منسوخ

سخت گیر ہندو نظریاتی جماعت شیوسینا کی مخالفت کے بعد ممبئی میں مشہور غزل گائیک جگجیت سنگھ کی یاد میں ہونے والا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔
نو اکتوبر کو ہونے والے اس پروگرام میں پاکستانی گلوکار غلام علی نے بھی شامل ہونا تھا جس پر شیوسینا نے سخت اعتراض کیا تھا۔
<link type="page"><caption> ’پاکستانی گلوکاروں کو فن کا مظاہرہ نہیں کرنے دیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2014/02/140204_shiv_sena_protest_pak_band_rwa" platform="highweb"/></link>
شیوسینا کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم کی جانب سے پروگرام کی مخالفت کے بعد منتظمین نے بدھ کی شام شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی۔
ان کے مطابق تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد منتظمین نے پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فرنويس نے غلام علی کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ایک مراٹھی چینل سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا تھا کہ سکیورٹی دینا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور غلام علی کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے فنکار بھی پاکستان جا کر پروگرام کرتے ہیں اور فن اور سیاست کو نہیں ملانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کی یقین دہانی کے باوجود منتظمین نے پروگرام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
شیوسینا کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا، ’پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے خلاف کارروائیاں کرتا رہتا ہے اور ہندوستان وہاں کے فنکاروں کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ یہ اب نہیں چلے گا. ہم ممبئی میں کسی بھی پاکستانی آرٹسٹ کا کوئی پروگرام نہیں ہونے دیں گے۔‘
خیال رہے کہ ماضی میں بھی شیوسینا پاکستانی فنکاروں کے خلاف مظاہرے کرتی رہی ہے اور اس احتجاج کی وجہ سے متعدد پاکستانی فنکاروں کو اپنا کام ادھورا چھوڑ کر بھارت سے جانے پر مجبور بھی ہو چکے ہیں۔
گذشتہ برس ممبئی میں ہی شیو سینا کے کارکنوں نے ممبئی پریس کلب میں پاکستان کے میکال حسن بینڈ کے ارکان کی نیوز کانفرنس کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی تھی۔







