جے این یو میں اساتذہ بھی طلبا کی ہڑتال کے حامی

بھارت کے معروف تعلیمی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا نے اپنی یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
سٹوڈنٹ یونین نے کہا ہے کہ ’جب تک کنہیا کمار کو رہا نہیں کیا جاتا ہے، یونیورسٹی میں کسی طرح کا کوئی کام کاج نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں یونیورسٹی کیمپس میں کشمیری شہری افضل گورو کی پھانسی کی برسی پر منعقدہ ایک پروگرام کے بعد تنازع کھڑا ہو گيا تھا اور پولیس نے طلبا یونین کے صدر کو حراست میں لے لیا۔
جے این یو کے اساتذہ نے بھی سٹوڈنٹ یونین کی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ٹیچرز یونین کے صدر اجے پٹنائک نے بی بی سی سے کہا: ’ہم طالب علموں کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم ہڑتال کے دوران کلاسیں نہیں لیں گے۔‘
اتوار کو یونیورسٹی کے طلبا و اساتذہ نے کمیپس میں انسانی زنجیر بنا کر کنہیا کمار کی گرفتاری کی مخالفت کی تھی۔
ٹیچرز یونین کے صدر نے کہا: ’ایمرجنسی (1975) کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سٹوڈنٹ یونین کے منتخب صدر کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں نہ تو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کچلا جا سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پہلے سے ہی ناراض طلبا و اساتذہ کا غصہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بیان کے بعد مزید بھڑک اٹھا۔
راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو کہا تھا کہ جے این یو میں جو کچھ ہوا، اسے پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ قوم مخالف حرکتوں کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں یا اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو حکومت کسی صورت میں معاف نہیں کرے گی۔‘

اس کے بعد اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔
بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ ’وزیر داخلہ کے پاس ثبوت ہوں تو حکومت کو فوری طور پر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ سیتا رام یچوری جے این یو کے طالب علم رہ چکے ہیں اور ایمرجنسی کے زمانے میں وہ سٹوڈنٹ یونین کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ٹویٹ میں کہا کہ ’وزیر داخلہ کو اس سے منسلک ثبوت عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔‘
وزارت داخلہ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ راج ناتھ سنگھ کا بیان سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے دی جانے والی ٹھوس معلومات پر مبنی ہے۔







