افضل گرو کی برسی، احتجاج، بحث اور تلخی

بعض کا موقف ہے کہ اس ملک میں مہتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں ہر ربس تقریب منائی جاتی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کیا ضرورت ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبعض کا موقف ہے کہ اس ملک میں مہتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں ہر ربس تقریب منائی جاتی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کیا ضرورت ہے

بھارتی دارالحکومت دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کچھ طلبا نے افضل گرو کی برسی پر احتجاج کیا تھا جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایک بڑا طبقہ افضل گرو کو ایک دہشت گرد قرار دے کر طلبا کے اس عمل پر سخت تنقید کر رہا ہے تاہم بعض کا موقف ہے کہ اس ملک میں مہتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں ہر برس تقریب منائی جاتی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کیا ضرورت ہے۔

اس کے خلاف سوشل میڈیا پر لوگوں کا زبردست غصہ دیکھنے کو ملا ہے اور #ShutDownJNU ٹرینڈ کر رہا ہے۔

نو فروری کو جے این یو کے کچھ طالب علموں نے افضل گرو کی پھانسی کی برسی پر احتجاجی مارچ نکالا تھا۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے لیے قصور وار قرار دیے جانے والے کشمیری شہری افضل گرو کو نو فروری 2013 کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئي تھی۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس احتجاجی مارچ کو منظوری نہیں دی تھی۔ لیکن مظاہرہ کرنے والے طلبا کا دعوی ہے کہ انھوں نے احتجاجی مارچ نکالا اور افضل گرو کی پھانسی کو عدالتی تحویل میں قتل قرار دیا۔

نو فروری کو جے این یو کے کچھ طالب علموں نے افضل گرو کی پھانسی کی برسی پر احتجاجی مارچ نکالا تھا
،تصویر کا کیپشننو فروری کو جے این یو کے کچھ طالب علموں نے افضل گرو کی پھانسی کی برسی پر احتجاجی مارچ نکالا تھا

اسی کے بعد سے سوشل میڈیا پر جے این یو کے خلاف تبصروں کا سیلاب سا امڈ پڑآ۔ #ShutDownJNU پر تقریبًا ایک لاکھ ٹویٹس آ چکی ہیں۔

iNirajVerma لکھتے ہیں ’یہ المیہ ہے کہ دہلی کا یہ تعلیمی ادارہ جے این یو کچھ سیاسی جماعتوں کی شہہ پر ملک دشمن اور نکسل حامیوں کا اڈہ بن چکا ہے۔‘

AnilkumarGhss نے لکھا ’بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد جیسے عظیم لوگوں کی توہین اور افضل گرو کا احترام۔ یہ کام صرف جے این یو ہی کر سکتا ہے۔‘

فیس بک پر سمير نندی لکھتے ہیں ’ آج مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے نمبر کم آنے کی وجہ سے میرا داخلہ جے این یو میں نہیں ہو پایا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس ادارے کا طالب علم نہیں بنا۔‘

،تصویر کا ذریعہ

فیس بک پر ہی رابندر ناتھ لکھتے ہیں ’بہت اچھے جے این یو، آج افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت تو کل قصاب کی پھانسی کی بھی مخالفت كروےگے۔ اور کچھ بیوقوف اس حرکت کو اظہار کی آزادی قرار دیں گے۔‘

ٹوئٹر پر @ DrGPradhan نے لکھا ’ملک کی بدقسمتی دیکھئے، ملک ہنمن تھپّا کے لیے دعا گو ہے اور JNU افضل گرو کے لیے۔‘

لیکن پراتیک علی فیس بک پر لکھتے ہیں ’مجھے فخر ہے کہ میں جے این یو کا حصہ رہا جب بھی میں نیوز چینلز پر جھوٹی قوم پرستی کا دفاع کرتے ہوئے گندی زبان میں چیختے چلّاتے صحافیوں اور ماہرین کو دیکھتا ہوں تو مجھے جے این یو پر فخر ہوتا ہے۔ افضل گرو جیسوں کو پھانسی پر لٹکانا خالصتًا عدالتی قتل ہے اور کچھ نہیں۔ خود عدالت نے تسلیم کیا تھا کہ افضل گرو کے خلاف ظاہری ثبوت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ گرو جیسوں کو ان کے جرائم کے لیے نہیں بلکہ سیاستدانوں کی چمڑی بچانے کے لیے پھانسی پر لٹکایا گیا۔‘