دلی سے کشمیر منتقلی کی درخواست

افضل گرو
،تصویر کا کیپشنافضل کی رحم کی اپیل گزشتہ پانچ برسوں سے التوا میں ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے افضل گرو کی اس درخواست پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے جس میں انہوں نے دلی کے تہاڑ جیل سے اپنے آپ کو جموں کشمیر کی کسی جیل میں منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔

کشمیری باشندے افضل گرو کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

دسمبر دو ہزار ایک میں بھارت کی پارلیمان پر حملے میں حملہ آوروں سمیت نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اپنی درخواست میں افضل گرو نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ حکومت کو ایسی ہدایات دے جس سے انہیں دلی کی تہاڑ جیل سے نکال کر ایسی جیل میں منتقل کر دیا جائے جو جموں کمشیر سے قریب ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ کشمیر میں رہتے ہیں اور ان کے لیے دلی آکر جیل میں ان سے ملاقات کرنا ایک مشکل عمل ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ انہیں جموں کشمیر یا اس سے پاس کسی بھی جیل میں منتقل کردیا جائے۔ سماعت کے دوران افضل گرو کی وکیل کماکشی سنگھ نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ پنجاب میں پٹھان کوٹ کی جیل کشمیر سے قریب ہے اور وہ مناسب بھی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان کی وکیل سے افضل گرو کی رحم کی اپیل کے متعلق بھی پوچھا۔

جواب میں کماکشی نےعدالت کو بتایا کہ رحم کی اپیل گزشتہ پانچ برسوں سے التوا میں ہے اور اس سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

افضل گرو نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ ان کا ایک گیارہ برس بیٹا ہے اور اسّی برس کی ماں ہیں جن کے لیے ان سے ملاقات کی غرض سے دلی آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

درخواست کے مطابق دلی آنے کے لیے ان کے پاس پیسے بھی نہیں ہوتے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یا تو انہیں جموں کمشیر کی جیل میں منتقل کیا جائے یا پھر حکومت ان کی آمد و رفت کا خرچہ بردشت کرے۔