افضل گرو کی پھانسی کا مطالبہ تیز

افضل گرو
،تصویر کا کیپشنافضل گرو کو پھانسی دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

جب سے ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں اجمل قصاب کو موت کی سزا سنائی گئی ہے، افضل گرو کو بھی پھانسی دینے کے مطالبے میں شدت آگئی ہے۔

افضل گرو کو سن دو ہزار ایک میں ہندوستان کی پارلیمان پر حملے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

سن دو ہزار پانچ سے ان کی رحم کی درخواست دلی کی حکومت کے پاس سرد بستے میں پڑی ہوئی تھی لیکن اجمل قصاب کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جلدی میں اب افضل گرو بھی نشانہ پر آگئے ہیں۔

لیکن یہ جلدی حکومت کی طرف سے کم حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر قوم پرستوں کی طرف سے زیادہ ہے جن کے لیے افضل گرو اور قصاب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔

صدر جمہوریہ کے پاس سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے رحم کی تقریباً پچاس درخوستیں زیر التوا ہیں، اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان درخواستوں پر اسی ترتیب سے غور کیا جائے گا جن میں یہ حاصل ہوئی تھیں۔

اس فہرست میں دو درجن سے زیادہ قیدی افضل گرو سے آگے ہیں۔

ملک میں آخری مرتبہ دو ہزار پانچ میں پھانسی کی سزا پر عمل کیا گیا تھا اور انیس سو پچانوے سے لیکر اب تک صرف دو لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستان انسانی حقوق کے تعلق سے بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بہتر کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے اس نے سزائے موت کے اطلاق پر خود ساختہ پابندی لگا رکھی ہے۔

اس کے لیے حکومت کے پاس آسان طریقہ یہ ہے کہ فائلوں کو صدر کے پاس بھیجنے میں جلدی نہ کی جائے۔ یہ اپیلیں صدر جمہوریہ کے سامنے دائر ضرور کی جاتی ہیں لیکن ان پر فیصلہ وزارت داخلہ سمیت مختلف محکموں اور متعلقہ ریاستی سرکار کے موقف کی روشنی میں حکومت کے مشورے پر ہی کیا جاتا ہے۔

افضل گرو کی فائل اب دلی حکومت نے یہ کہہ کر لیفٹننٹ گورنر کو بھیج دی ہے کہ اسے سزا کے اطلاق پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب یہ فائل صدر کے سامنے پیش کی جائے گی لیکن اس پر کوئی فیصلہ کرنے کے لیے آئین میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے۔ صدر جب تک چاہیں اسے اپنے پاس رکھ سکتی ہیں یا اگر ضرورت ہو تو مزید وضاحتوں کے لیے وزارت داخلہ کو واپس بھیج سکتی ہیں۔

خود کانگریس میں بھی افضل گرو کے بارے میں کچھ اختلاف رائے پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سینئر رہنما دگ وجے سنگھ یہ کہہ چکے ہیں کہ افضل گرو کے جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں جلدی سے جلدی پھانسی دے دینی چاہیے۔

لیکن وزارت داخلہ کا کہنا ہےکہ افضل کسی بھی دوسرے ایسے مجرم سے الگ نہیں ہیں جس کی رحم کی اپیل صدر کے پاس زیر غور ہے۔

افضل گرو کی فائل پر دلی کی حکومت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی پھانسی سے پہلے امن و قانون کے تعلق سے اس کے مضمرات کا باریکی سے جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔

ادھر کشمیر میں وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ افضل گرو کے معاملے میں غیر معمولی جلدی نہیں کی جانی چاہیے۔

بہرحال، اجمل قصاب کی وجہ سے حکومت کو جلدی ہی سزائے موت پر اپنا موقف واضح کرنا پڑے گا اور اگر وہ قصاب کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے کے لیے ان کے کیس کو فاسٹ ٹریک کرنے کے بجائے زیر التوا اپیلوں کو جلدی نمٹانے کا فیصلہ کرتی ہے تو کچھ مجرم شاید وقت سے پہلے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔