افضل گرو کے حق میں مظاہرے پر غداری کا مقدمہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کو ملک سے غداری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنجواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کو ملک سے غداری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گيا ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پولیس نے ملک کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کو ملک سے بغاوت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

چند روز قبل یونیورسٹی میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے افضل گرو کی پھانسی کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا جس پر حکومت نے اپنے سخت ردعمل میں یہ قدم اٹھایا ہے۔

نو فروری کو یونیورسٹی کیمپس میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے لیے قصوروار قرار دیے گئے افضل گرو کی برسی پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جمعے کی صبح ہی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ بھارت مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

الزام یہ ہے کہ اس پروگرام میں بھارت مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔ مشرقی دہلی سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان مہیش گری کی شکایت پر پولیس نے کئی طلبا کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔

بعض کا موقف ہے کہ اس ملک میں مہتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں ہر ربس تقریب منائی جاتی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کیا ضرورت ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبعض کا موقف ہے کہ اس ملک میں مہتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی یاد میں ہر ربس تقریب منائی جاتی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کیا ضرورت ہے

مرکزی وزیرتعلیم سمرتی ایرانی نے اس سے متعلق ایک بیان میں کہا ’قوم کبھی بھی بھارت ماتا کی توہین برداشت نہیں کر سکتی۔‘

دوسری جانب جے این یو میں پروگرام منعقد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں آئین کے تحت اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے اور اس کے تحت انہیں اپنی بات کہنے کا حق ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے لیے قصور وار قرار دیے جانے والے کشمیری شہری افضل گرو کو نو فروری 2013 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئي تھی۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس کے خلاف احتجاجی مارچ کو منظوری نہیں دی تھی۔ لیکن مظاہرہ کرنے والے طلبا کا دعوی ہے کہ انھوں نے احتجاجی مارچ نکالا اور افضل گرو کی پھانسی کو عدالتی تحویل میں قتل قرار دیا۔

جے این یو میں جو کچھ بھی ہوا اس کے حوالے سے سوشل میڈیا مپر بھی سخت رد عمل دیکھنے کو ملا تھا۔