دہلی عدالت میں طالب علم رہنما پر وکلا کا تشدد

،تصویر کا ذریعہGetty

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی مشہور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم رہنما پر وکلا کے ایک گروپ نے اس وقت تشدد کیا جب ان کو ’غداری‘ کے مقدمے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق کنہیا کمار کو وکلا نے تشدد کا نشانہ بنایا اور نعرے بازی کی۔

عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کمار کو دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیا اور اس کیس کی آئندہ سماعت دو ہفتے بعد ہو گی۔

کنہیا کمار کو دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی (جے این یو) کو سنہ 2013 میں محمد افضل گرو کو دی جانے والی پھانسی کے خلاف ایک ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس میں میں مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔

افضل گرو کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر بھی عدالت میں جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے سخت ہدایات جاری کی تھیں۔

بدھ کو ہونے والے تشدد کے بعد سپریم کورٹ نے صورت حال جاننے کے لیے ایک وفد پٹیالہ کورٹ ہاؤس بھجوایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

وکلا کی جانب سے کیے جانے والے تشدد میں کمار زخمی ہوئے ہیں۔

پٹیالہ کورٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سماعت کی کوریج کے لیے آئے ہوئے میڈیا کے ارکان پر اینٹ پھینکی گئی۔

بھارتی ویب اخبار فرسٹ پوسٹ کے طارق انور کو تشدد کا نشانہ عدالت کے باہر بنایا گیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا جب وہ وکلا کی جانب سے کمار کے حمایتیوں کی مار پیٹ کرتے ہوئے تصویر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

’انھوں نے میری تصویر ڈیلیٹ کیں اور مجھے گھسیٹ کر کمرہ عدالت میں لے گئے جہاں مجھ پر تشدد کیا گیا۔‘

طارق انور نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

کنہیا کمار کو ’غداری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اساتذہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور میڈیا کے کچھ اداروں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ ان کے خیال میں یہ ردعمل حد سے زیادہ تھا۔

یونیورسٹی میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا جبکہ دیگر 40 یونیورسٹیوں نے بھی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی مذمت کی۔

تاہم حکومت کے ناراض وزرا پیچھے نہیں ہٹے اور انھوں نے ’ملک مخالف عناصر‘ کو سزا دینے کا عندیہ دیا۔