’غداری‘ کا الزام، دہلی یونیورسٹی کے سابق استاد بھی گرفتار

بھارت میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبعلم رہنما کی گرفتاری کے بعد پولیس نے اب دہلی یونیورسٹی کے سابق استاد ایس اے آر گیلانی کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
پروفیسر گیلانی کو منگل کی صبح حراست میں لیا گیا اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے دہلی پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ انھیں ’غداری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
گیلانی نے دہلی پریس کلب میں افضل گورو کی پھانسی کی برسی پر ایک پروگرام منعقد کیا تھا۔
خیال رہے کہ گیلانی کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے معاملے میں بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدالت نے انھیں شواہد کی عدم موجودگی میں بری کر دیا تھا۔
تازہ گرفتاری سے قبل پریس کلب میں منعقدہ پروگرام کے بعد دہلی پولیس نے ان سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے افضل گورو کی حمایت میں نعرے لگوائے تھے۔
اس سے قبل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے لیڈر کنہیا کمار کو بھی افضل گورو کے سلسلے میں ہونے والے ایک پروگرام اور اس میں مبینہ طور پر کشمیر کی آزادی اور افضل گورو کے حق میں نعرے لگائے جانے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پیر کو عدالت نے کنہیا کمار کے پولیس ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کر دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سماعت سے قبل دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابقخود کو وکیل ظاہر کرنے والے ایک شخص نے جے این یو کے طالبعلموں پر حملہ کیا جو کنہیا کمار کی حمایت کے لیے عدالت آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کنہیا کمار کو ’غداری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور میڈیا کے کچھ اداروں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ ان کے خیال میں یہ ردعمل حد سے زیادہ تھا۔
افضل گورو کو پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے معاملے میں مجرم پایا گیا تھا اور انھیں پھانسی دے دی گئی تھی۔







