اسمبلی کے اجلاس میں ہاتھا پائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں سنیچر کو اراکین کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد اجلاس کی کارروائی روک دی گئی۔ قومی اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب چوہدری نثار نے صدر زرداری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس دوران بحث کے دوران پی پی پی کے رکن مجتبٰی کھرل اور عابد شیر علی کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ اتنا ہی نہیں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ نون کے اراکین کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے سپیکر نے اسمبلی کا کارروائی روک دی۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دینے اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی صدارت میں شروع ہوا تھا۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کا ایک اجلاس ہوا۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کا بھی ایک اجلاس قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی صدارت میں ہوا جس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران لائحہ عمل اپنانے کے بارے میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں جن میں عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) گروپ نے حکومت سے کہا کہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ تصادم کی بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کرے۔ اس اجلاس میں اتحادی جماعتوں نے پنجاب میں گورنر راج کی شدید مخالفت کی۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ پنجاب میں کسی بھی جماعت کو اکثریت نہیں ہے اس لیے وہاں پر گورنر راج کا نفاذ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ دو ماہ تک ہی صوبے میں گورنر راج رہے اس کو پہلے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب میں مسلم لیگ نون کے مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا تو مرکز میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چند روز قبل وزیر اعم یوسف رضا گیلانی نے سابق وزیر اعلی میاں شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ پنجاب حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اُٹھائے جائیں گے لیکن اس کے دو روز بعد ہی وہاں پر گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ سے کہا کہ اگر وہ صوبائی خودمختاری کی دعویدار ہےتو وہ پاکستان مسلم لیگ نون کا ساتھ دے۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لیے تعداد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے عوام میں جو بداعتمادی پھیلی ہے اُس کو دور کرنے کے لیے حکومت کو خود ہی اقدام کرنا ہوں گے۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے کارکن جو پہلے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے لیکن حکومتی اقدام کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ ماضی میں جب بھی حکومت نے کوئی ریگولر اجلاس بلایا ہے تو وہ پیر کو بلایا جاتا ہے لیکن اب کی بار سنیچر کو اجلاس بلایا گیا ہے۔ قانون کے مطابق حکومت کی درخواست پر صدرِ مملکت اجلاس بلاتے ہیں اور کبھی کابینہ ریگولر اجلاس بلانے کی منظوری نہیں دیتی۔ چوہدری نثار علی خان نے درخواست دائر کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ شیڈول کے مطابق یہ اجلاس سولہ فروری کو ہونا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر زرداری عدلیہ کے ساتھ مل کر نواز شریف اور شہباز شریف کو نا اہل قرار دلوانے کے لیے سرگرم تھے اس لیے انہوں نے اجلاس طے شدہ شیڈول کے تحت نہیں بلایا۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے صدر آصف علی زرداری پر سخت نکتہ چینی کی اور ان پر الزام لگایا کہ وہ قرآن پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’فیصلہ آ بیل مجھے مار کے مترادف‘25 February, 2009 | پاکستان پنجاب میں گورنرراج نافذ25 February, 2009 | پاکستان پنجاب: اعلٰی افسران کی تبدیلی25 February, 2009 | پاکستان ملک گیر ہڑتال کی اپیل، مظاہرے25 February, 2009 | پاکستان شریف نااہلیت اور ’گھوسٹ پٹیشنر‘25 February, 2009 | پاکستان نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں27 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||