جنگجو ’قومی مفاد‘ میں جنگ بندی پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فضاء آج کل یکایک بدلی بدلی دکھائی دینے لگی ہے۔ ایک طویل عرصے سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرے پیکار سوات اور باجوڑ کے شدت پسندوں کو اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ ایک ایک کر کے جنگ بندی پر تیار ہونے لگے ہیں جبکہ وزیرستان میں جنگجو سردار اپنے اختلافات بھلا کر اکھٹا ہوئے ہیں۔ پہلے سوات میں مولانا صوفی محمد کے ساتھ امن معاہدے کے نتیجے میں شدت پسندوں نے جنگ بندی کے اعلان میں پہل کی تو اسی طرح قبائلی علاقے باجوڑ میں بھی مولانا فقیر محمد نے اچانک یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر کے مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ دونوں مواقعوں پر حکومت نے جنگ بندی کا اعلان بطور ردعمل کیا یعنی شدت پسند اس میں پیش پیش رہے۔ سوات میں تو چلیں مان لیں کہ حالات و واقعات قدرے مختلف ہیں لیکن باجوڑ میں اچانک شدت پسندوں کو ایسا کیا ہوا ہے کہ انہیں قومی مفاد دکھائی دینے لگا ہے۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان دشمن نہیں بلکہ دوست نظر آنے لگے ہیں۔ کئی شاکی لوگوں کو اس ’قومی مفاد‘ کے لفظ کے استعمال سے ایک مرتبہ پھر کسی نئی سازش کی بو آنے لگے گی۔ لیکن فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق اس کی وجہ سکیورٹی فورسز کی باجوڑ میں گزشتہ کچھ عرصے کی کامیاب کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔ طالبان کمزور ہوگئے تھے شاید۔ یقیناً کبھی نرم اور کبھی گرم فوجی آپریشنوں سے شدت پسند دباؤ میں ضرور تھے لیکن کئی تجزیہ نگاروں کو اس بدلے بدلے موسم کا شک امریکہ میں آج کل جاری منصوبہ بندی پر ہے۔ ایک جانب اگر امریکہ پاکستان اور افغانستان کے اعلی حکام کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے، ان کی مدد سے اس خطے کے لیئے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے تو دوسری جانب مزید سترہ ہزار تازہ دم فوجی روانگی کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
عراق میں امریکہ نے جس ’سرج‘ یا طاقت کے استعمال میں شدت لانے سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے وہ فارمولہ کم و بیش افغانستان کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مزید فوجیوں کو اس جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا اب ان کو استعمال کس طرح سے کرنا ہے امریکی مذاکرات کا بظاہر مقصد محض یہی دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن مذاکرات کے خاتمے پر امریکہ اور نیٹو اپریل کے پہلے ہفتے میں سرجوڑ کر افغانستان کے مسئلے کے حل کے منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کے اندر جاسوس طیاروں سے حملے بند کرنے کی بجائے اس میں شدت لانے کا عندیہ دیا ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم صافی کہتے ہیں کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے لیے ناصرف کام بڑھ رہا ہے بلکہ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں تو شاید یہ اس کے لیے تیاری ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال کے کئی اور عناصر بھی ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں پر بھی عالمی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ شدت پسندوں کی مدد بند کر دے تو دوسری جانب اسے سوات میں عملی طور پر شکست ہوئی ہے۔ پاکستانی طالبان کی جنگ بندیاں اور نئے اتحاد امریکی منصوبہ بندی کا توڑ ڈھونڈنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا اصل مقصد پاکستان میں اپنے دفاع کو مضبوط کرنا، تازہ دم ہونا اور افغانستان پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کرنے کی کوشش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اب میدان بظاہر افغانستان منتقل ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ تاہم پشاور کے سینیئر صحافی اقبال خٹک ان جنگ بندیوں کا ایک تاثر یہ بھی لے رہے ہیں کہ شاید تحریک طالبان پاکستان سوات معاہدے کے بعد کمزور پڑ گئی ہے اور سوات میں امن معاہدے پر منقسم ہوگئی ہے۔ جس کے بعد اب باجوڑ میں مولانا فقیر محمد نے بھی اپنی سابق تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بات مانتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ ملا نذیر اور حافظ گل بہادر جو پہلے ہی پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے خلاف تھے تو اب بیت اللہ محسود کے ساتھ مل کر تینوں افغانستان پر زیادہ توجہ دیں گے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر خفیہ اداروں کے کردار کے حوالے سے دباؤ بھی کافی بڑھ گیا ہے۔ ادھر عوام کا دباؤ بھی سیاسی حکومت پر بڑھ رہا ہے۔ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ادارے اس دباؤ سے کیسے نبرد آزماں ہوتے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں سوات:فوج کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت24 February, 2009 | پاکستان سوات: غیر معینہ مدت تک سیزفائر24 February, 2009 | پاکستان قومی سلامتی کی سفارشات جلد24 February, 2009 | پاکستان امن معاہدے کے بعد سکول کھل گئے23 February, 2009 | پاکستان معاہدہ کامیاب ہوگا:صوفی محمد23 February, 2009 | پاکستان ’شورش میں دشمن ایجنسیاں ملوث‘23 February, 2009 | پاکستان سوات:ضلعی رابطہ افسر طالبان کے ’مہمان‘22 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||