BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیر بالا میں بھی ایف ایم سٹیشن قائم

طالبان پہلے سے ہی غیر قانونی طور پر کئی ایف ایم سٹیشن چلا رہےہیں

صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات کے بعد اب ضلع دیر بالا میں بھی خود کو’طالبان‘ کہنے والے ایک مسلح گروہ نے غیر قانونی ایف ایم چینل قائم کرلیا ہے۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کے اس گروہ نے دیر بالا کے علاقے ڈوگ درہ کے شارٹ کس کے مقام پر ایک غیر قانونی ایف ایم چینل قائم کردیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف ایم پر تقاریر کی بجائے صرف جہادی ترانے اور نعتیں نشر کی جارہی ہیں۔

ان کے بقول غیر قانونی ایف ایم چینل قائم کرنے والے مسلح گروہ کی تعداد درجنوں میں ہے اور ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ انکا تعلق سوات میں سکیورٹی فورسز سے برسرِ پیکار طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے گروپ سے ہے۔ ان کے مطابق اس مسلح گروہ کا امیر، امیر خطاب نامی شخص ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلح گروپ میں بعض افغان بھی شامل ہیں جو ایک دہائی قبل افغانستان سے صوبے نورستان سے ڈوگ درہ آکر آباد ہوئے تھے۔

اس سلسلے میں مقامی لوگوں سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ایف ایم چینل کی نشریات گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہیں۔

ان کے بقول ایف ایم پر نعتوں اور جہادی ترانوں کے علاوہ خود کو طالبان کہنے والے گروپ کے بعض ’ کمانڈر‘ بھی مختصر وقت کے لیے تقریر کرتے رہتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس مسلح گروہ نے چند ماہ قبل چترال سے ایک افغان اہلکار اختر جان کوہستانی کے اغواء کی ذمہ داری ایف ایم چینل پر قبول کرلی ہے اور انکے بدلے پشاور میں مبینہ طور پر قید محی الدین عرف عبداللہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اختر جان کوہستانی چند دن قبل انکی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جسکے بعد انہیں دوبارہ پکڑ لیا گیا تھا۔ انکی رہائی اور مسلح گروہ کی علاقے میں دن بدن بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے پیر کو علماء اور عمائدین پر مشتمل جرگے نے مسلح گروہ کی قیادت سے مذاکرات کیے تھے جس میں انہوں نے جرگے کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کو بھی درجنوں مسلح افراد ڈوگ درہ میں نکل آئے اور انہوں نے اپنی طاقت کے مظاہرے کے طور پر کچھ دیر کے لیے سڑک بھی بند کر لی۔

صوبہ سرحد اور دیگر علاقوں میں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت اور اسکے نتیجے میں ہونے والی فوجی کاروائیوں میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر اس قسم کے مسلح گروہ کے دیر بالا میں منظر عام پر آنے سے مقامی لوگ خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار چھ میں سوات میں جب مولانا فضل اللہ نے ایف چینل قائم کیا تھا تو اس وقت بھی حکام نے اسکا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیاتھا جسکا نتیجہ آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر دیر بالا میں بھی حکام نے اسی طرح کے غفلت سے کام لیا تو یہاں پر بھی سوات اور دیگر علاقوں جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

سرسبز و شاداب وادی ڈوگ درہ دیر بالا کے ہیڈ کوارٹر دیر خاص سے تقریباً پچاس کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے جسکی سرحد ضلع چترال سے جاکر ملتی ہے۔تقریباً پچیس گاؤں پر مشتمل اس علاقے کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

تشدد کی دلدل میں
سوات:حکومتی عملداری کمزور کیوں پڑ رہی ہے
رپورٹر کی ڈائری
’روز وہی خودکش حملے اور سربریدہ لاشیں‘
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
اسی بارے میں
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد