BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحرانوں کا پاکستان

اسلام آباد میں سکیورٹی
پاکستان میں یکے بعد دیگرے بحران آتے رہے ہیں
بحران شاید پاکستان کی قسمت میں لکھے ہیں۔ سیاسی و قانونی بحرانوں کے بعد اب ایک مرتبہ پھر یہ ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف سے پاکستان کا نہ تو یہ پہلا اور نہ ہی شاید آخری رابطہ ہے۔ اسی لیے شاید عوامی سطح پر کوئی اتنا زیادہ شور نہیں ہے۔

سب کو معلوم ہے اس کی ذمہ داری اگر موجودہ حکمرانوں پر ڈالیں تو وہ اسے سابق حکومت کی کارستانی قرار دیتے ہیں اور اگر سابق حکمرانوں کو مجرم قرار دیں تو کسے پکڑیں: ایک ملک چھوڑ کر جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے اور دوسرے آرمی ہاؤس کی مضبوط دیواروں کے پیچھے امریکی دوروں کی آج کل تیاری کر رہے ہیں۔

لیکن کم از کم یہ تو دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے تقریباً سولہ ارب ڈالر کی انتہائی حد کو چھونے والے زرمبادلہ کے ذخائر، اربوں روپے کی غیرملکی سرمایہ کاری اور افراط زر چند ماہ میں یکسر کم ہوکر اس سال اکتیس اکتوبر کو محض چھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر رہ گئے۔ آخر دنیا کی پچیسیوں بڑی معیشت کو ایسا ہوا کیا؟

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بہتری ابتری میں تبدیل ہوناگزشتہ برس جولائی دو ہزار سات سے شروع ہوئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ججوں، لال مسجد محاصرے اور یکے بعد دیگرے خودکش حملوں کے نرغے میں تھا۔

حکومت اور عوام کی توجہ ان مسائل پر مرکوز تھی اور پس پشت معیشت کی حالت آہستہ آہستہ بگڑتی گئی۔

افراط زر نے ’ڈبل ڈیجٹ‘ کی حد کو توڑا اور ایسا توڑا کہ ایک سال بعد پچیس فیصد پر بھی اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے۔ درآمدات برآمدات سے دوگنی ہونے لگیں۔ گندم میں خودکفیل اور اضافی گندم کو برآمد کرنے والے ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے درآمد کرنا پڑا۔

بینظیر کے قتل کے شبہے میں گرفتار ہونے والا نوجوان
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے

دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اٹھنے والے اخراجات بھی بجٹ پر بوجھ ثابت ہوئے۔ امریکہ سے کبھی واجبات ملے تو کبھی التوا کا شکار رہے۔ مالی سال دو ہزار سات آٹھ میں اس جنگ کی ملک کو چھ اعشاریہ دو ارب ڈالر قیمت ادا کرنی پڑی جو موجودہ مالی سال میں بڑھ کر سات اعشاریہ تین ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

صدر مشرف کے انتخاب، ہنگامی حالت کے نفاذ، بےنظیر بھٹو کے قتل اور عام انتخابات کی آمد نے غیریقینی حالات کو تسلسل دیا۔ رہی سہی کسر عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پوری کر دی۔ ایک سو چالیس ڈالر فی بیرل تک جانے والی قیمت کی وجہ سے مہنگائی کا وہ طوفان آیا کہ اب تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی اپنی جگہ بدستور قائم ہے۔ اس کا اثر ختم نہیں ہوا۔

سکیورٹی اور معیشت کی خراب صورتحال کی وجہ سے سرمایہ بھی بڑی تیزی سے واپس لوٹنے لگا۔ سٹاک ایکسچینج کے کریش نے بھی سرمایہ کاروں کو رقم نکالنے پر مجبور کیا۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دنیا کے گلوبل گاؤں بننے کی وجہ سے اب ایک ملک سے دوسرے ملک رقم باضابطہ بینکنگ چینلز سے منتقل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایسے کرنے والے کو بعض صورتوں میں محض سٹیٹ بینک کو صرف مطلع کرنا ہوتا ہے۔ لہذا حکومت صرف منہ دیکھتے رہ گئی۔

غیریقینی سکیورٹی اور سیاسی حالات ابتداء سال کے اب تک روپے کی قدر میں تیئس فیصد سے زائد گراوٹ کا سبب بنی۔ مارکیٹ میں ڈالر اٹھاسی تک جا پہنچا تھا۔

معاشی ماہرین کے مطابق کمزور مالیاتی ادارے، ٹیکس سے ملنے والی رقوم میں مناسب اضافہ نہ ہونے اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات بھی معیشت کی زبوں حالی میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد حکومت کا حال اس بکری جیسا تھا جو درخت کے پتے کھانے میں اتنی مگن تھی کہ ٹہنی کے خطرناک آخری حصے تک پہنچ گئی۔ اب نہ وہ آگے اور نہ ہی پیچھے جاسکتی ہے۔

مناف کالیا
کالیا اور خانانی پر غیر قانونی طور پر لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا مقدمہ ہے

اندرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی اس دوران بڑھا۔ ٹیکس جمع کرنے کے تناسب میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن جی ڈی پی میں اس کا حصہ تقریباً دس فیصد کے اردگرد گھوم رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس بحرانی کیفیت میں حکومت کو دس سالہ بانڈز پر سود کی ادائیگی کرنی پڑی جبکہ ڈالر بانڈز کا پہلے سے طے شدہ اجراء بھی نہیں ہوسکا۔ بین القوامی مالیاتی بحران معیشت کے لیے آخری دھچکہ ثابت ہوا۔ اس وجہ سے عالمی اداروں کی امداد اور نجکاری بھی رکی گئی۔

سرکاری ماہرین کے مطابق اگر پاکستان نے معیشت سنبھالنے کے لیے چوتھی مرتبہ عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کیا ہے تو ایسا غلط قدم بھی نہیں اٹھایا۔ وہ اسے ایک معمول کا عمل قرار دیتے ہیں لیکن ان کے مطابق اصل خطرہ حاصل کیے گئے قرضے کا غلط خرچ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سات ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ دینے سے حکومت امید کر رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ساکھ بحال ہوگی اور دیگر ذرائع سے روکی ہوئی امداد ملک آنا شروع ہو جائے گی۔ یہ بحران دیگر بحرانوں کی طرح اس حکومت اور اس میں شامل سیاستدانوں کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

واپڈا ہاؤسلوڈشیڈنگ کی حد
لوڈ شیڈنگ: آٹھ سے سولہ گھنٹے روزانہ ہو گئی
سٹاک ایکسچینجبحران کے عوامل
معاشی، سیاسی ابتری اور مرکزی بینک
واپڈا ہاؤسلوڈشیڈنگ بڑھے گی
بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے
آٹاغذائی عدم تحفظ
پاکستان: نصف آبادی خوراک کی قلت کا شکار
بجلیبجلی کا بحران
کراچی میں پانچ گھنٹے تک بجلی کی فراہمی بند
پروین بی بی’بچے بھوکے ہیں‘
’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد