BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 November, 2008, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: لشکر سربراہ سمیت نو ہلاک

باجوڑ ایجنسی
چھ نومبر کو بھی ایک مبینہ خود کش بمبار نے سالارزئی قبلے کے طالبان مخالف ایک جرگہ کو نشانہ بنایا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکا م کا کہنا ہے کہ ایک دھماکے میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ ملک رحمت اللہ سمیت نو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ جمعرات کو صدر مقام خار سے تقریباً بیس کلومیٹر دور تحصیل واڑہ ماموند کے بدان گاؤں میں پیش آیا ہے۔ ان کے بقول بدان گاؤں میں لوگ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے تھے کہ اس وقت ایک دھماکہ ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملے میں طالبان مخالف قبائلی لشکر کے سربراہ ملک رحمت اللہ اور آٹھ دیگر افراد موقع پر ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔اہلکار کے بقول اس وقت صرف دو لاشیں اور تین زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر کا تعلق بھی بدان گاؤں سے ہے۔ ملک رحمت اللہ کو سخت گیر طالبان مخالف مشران میں شمار کیا جاتا تھا۔ابھی تک کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

چھ نومبر کو بھی ایک مبینہ خود کش بمبار نے سالارزئی قبلے کے طالبان مخالف ایک جرگہ کو نشانہ بنایا تھا جس میں پچیس افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں لشکر کے سربراہ میجر ریٹائرڈ فضل کریم اور دیگر آٹھ قبائلی مشران بھی شامل تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جب سے حکومت نے مبینہ عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے قبائلی لشکر منظم کرنے کی پالیسی وضع کی ہے تب سے نامعلوم افراد کلی جانب سے قبائلی جرگوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔اس نوعیت کے زیادہ تر واقعات باجوڑ ایجنسی میںہی پیش آئے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں طالبان اور قبائلی لشکروں کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں جس میں بھی متعدد قبائلی مشران اور مسلح رضا کار ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی مشران کو گلا کاٹ کر مارا بھی گیا ہے۔

چند روز قبل بھی ایک جھڑپ کے دوران سات قبائلی مشران کو طالبان نے اغواء کیا تھا جن میں سے تین طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ چار اب بھی انکی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں
سوات، باجوڑ گولہ باری 14 ہلاک
20 November, 2008 | پاکستان
سوات: فوج پر حملہ ایک ہلاک
18 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد