عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام،پشاور |  |
 | | | سرکاری طور پر شہریوں کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی |
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق دو مختلف گھروں پر توپ کے گولےگرنے سے دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چھ عام شہری ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے واڑہ ماموند کے کئی گاؤں کو مسلسل توپخانے سے نشانہ بنایا۔ ان کے بقول اس دوران سپرئی نامی گاؤں میں دو مختلف گھروں پر توپ کے گولے گرے ہیں جس میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں جنہیں جمعرات کی صبح سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طور پر شہریوں کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بھی سکیورٹی فورسز نے زوڑ بند، چہارمنگ اور آس پاس کے علاقوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں، توپخانے اور جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس میں ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران مبینہ عسکریت پسندوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم حکومت سرکار ی طور پر شہریوں کی ہلاکت سے انکار کرتی آئی ہے۔ ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے تقریباً دو ہفتے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ فوجی کارروائی کے دوران نوے سے زائد عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ |