سوات، باجوڑ گولہ باری 14 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور قبائل علاقہ باجوڑ ایجنسی میں مختلف مکانات پر توپ کے گولے گرنے سے سات خواتین اور چار بچوں سمیت چودہ عام شہری ہلاک جبکہ تقریباً تئیس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی دوپہر سکیورٹی فورسز نے تحصیل خوازہ خیلہ کے مختلف علاقوں کو توپخانوں سے نشانہ بنایا۔ ان کے بقول اس دوران عالم گنج اور بالالئی گاؤں میں مختلف مکانات پر توپ کے گولے گرے ہیں جس میں آٹھ افراد موقع پر ہلاک جبکہ پندرہ کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک عینی شاہد فضل ہادی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے موقع پر پہنچ کر ملبے سے کئی لاشیں نکالی ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں گاڑیوں میں سیدو شریف اور خوازہ خیلہ ہسپتال لیجایا گیا ہے۔ فضل ہادی کے مطابق مقامی لوگوں کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کرنے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی کیونکہ بقول انکے ان علاقوں میں طالبان’موجود‘ ہی نہیں تھے۔ ان کے بقول فوجی کاروائی شروع ہونے کے دوران گزشتہ کچھ عرصے میں تین مرتبہ مقامی لوگوں نے نقل مکانی کی ہے مگر جب کبھی حالات میں تھوڑی سی بہتری آئی ہے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق کی تاہم انہوں نے ہلاکتوں کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق دو مختلف گھروں پر توپ کے گولےگرنے سے دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چھ عام شہری ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے واڑہ ماموند کے کئی گاؤں کو مسلسل توپخانے سے نشانہ بنایا۔
ان کے بقول اس دوران سپرئی نامی گاؤں میں دو مختلف گھروں پر توپ کے گولے گرے جس میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں جنہیں جمعرات کی صبح سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طور پر شہریوں کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بھی سکیورٹی فورسز نے زوڑ بند، چہارمنگ اور آس پاس کے علاقوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں، توپخانے اور جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس میں ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران مبینہ عسکریت پسندوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم حکومت سرکار ی طور پر شہریوں کی ہلاکت سے انکار کرتی آئی ہے۔ ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے تقریباً دو ہفتے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ فوجی کارروائی کے دوران نوے سے زائد عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ’شیر دل‘ میں جاری کارروائی میں سکیورٹی فورسز باجوڑ کے علاقے نواگئی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں جبکہ کچھ شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||