خانانی، کالیا کا جسمانی ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرنسی سکینڈل میں ملوث جاوید خانانی اور مناف کالیا کو جمعہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد آصف کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو چھبیس نومبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے حکام کے حوالے کر دیا۔ جاوید خانانی کو لاہور اور مناف کالیا کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ کراچی میں بھی غیر قانونی طریقے سے کرنسی کی باہر منتقلی کے الزام میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد انہیں لاہور سے کراچی لایا گیا ہے۔ دوسری طرف جاوید خانانی اور مناف کالیا کی ضمانت کے لیے کراچی کی ایک مقامی عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے اور عدالت نے پچیس نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی فہیم الدین کی عدالت میں جاوید خانانی اور مناف کالیا کی جانب سے ان کے وکیل رضا ہاشمی نے ضمانت کی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن اور الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت دائر اس مقدمے میں ملزمان پر عائد الزامات قابل دست اندازی پولیس نہیں اور نہ ہی فارن کرنسی کے معاملات میں فوجداری قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ درخواست گذار کے مطابق سٹیٹ بینک بھی الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت کرنسی کی منتقلی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ رضا ہاشمی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے موکلوں کی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ باہر آ کر اپنا قانونی دفاع کر سکیں۔ عدالت نے اس درخواست پر پچیس نومبر کے لیے ایف آئی اے حکام کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ دوسری جانب مشیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں فاریکس ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ تنظیم کے سربراہ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ وہ مشیر داخلہ کی یقین دہانیوں سے مطمئن ہیں۔ | اسی بارے میں کالیا، خانانی کی کراچی منتقلی20 November, 2008 | پاکستان خانانی اور کالیا کا جسمانی ریمانڈ17 November, 2008 | پاکستان کالیا کو رہا نہیں کیا جا رہا: رحمان ملک13 November, 2008 | پاکستان ’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘11 November, 2008 | پاکستان خانانی کے بعد کالیا بھی ریمانڈ پر11 November, 2008 | پاکستان کرنسی سمگلنگ کے ملزم ریمانڈ پر09 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||