BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خانانی اور کالیا کا جسمانی ریمانڈ

مناف کالیا فائل فوٹو
مناف کالیا، جاوید خانانی اور طارق محمود ایف آئی اے کی حراست میں ہیں
لاہور کے مقامی مجسٹریٹ نےمنی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ایک ملزم رستم علی کو جیل بھجوادیا ہے جبکہ خانانی، کالیا اور طارق محمود کومزید تین تین روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا ہے۔

وکیل صفائی اکرم شیخ نے ملزموں پر دوران حراست مبینہ تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔

مناف کالیا،جاوید خانانی ، رستم علی اور طارق محمود کو پیر کی صبح مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا تو ان کے وکلاء نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ انہوں نے ان کے جسمانی ریمانڈ جاری کرنےکے اختیارات کو سیشن عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

مقامی مجسٹریٹ نے سیشن عدالت کا فیصلہ آنے تک سماعت روک دی۔ملزموں کو سیشن عدالت میں پیش کیا گیا جہاں منی چینجرزخانانی اینڈ کالیا کے وکلاء نے ان کی ضمانت کی درخواستیں دائر کررکھی تھیں۔

ملزموں کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل میں کہا کہ مقامی مجسٹریٹ اس کیس میں ریمانڈ جاری نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ دیکر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور ان کے موکل ایف آئی اے کی حبس بےجا میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جرم قابل ضمانت ہے اس لیے سیشن عدالت ان کی ضمانت منظور کرے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پراسکیوٹرمزمل عتیق نے کہا کہ مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار کے خلاف درخواست دینے کا مقصد انہیں دباؤ میں لانا اور ملزموں کو جیل بھجوانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزموں نے سٹیٹ بنک کو نقصان پہنچایا اور وہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔

 خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل پاکستان کی ایک بڑی فاریکس کمپنی ہے۔ایف آئی اے حکام نے ڈیڑھ ہفتے پہلے اس ادارے کے مالکان کو منی لانڈرنگ کے الزام میں حراست میں لیا تھا

گوجرانوالہ سےگرفتار ہونے والے ملزموں رستم علی اورطارق محمود کے وکیلِ صفائی رانا اعجاز احمد نے کہا کہ وہ دنیا انٹرپرائز گوجرنوالہ کے ملازم ہیں اور اتنے وسیع پیمانے پر کاروبار نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ رستم علی پچھتر برس کے ہیں اور دنیا انٹرپرائزز میں معمولی ملازم ہیں جبکہ طارق محمود محض کمپیوٹر آپریٹر ہیں اور ان کا خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل سے بھی کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔

وکیل صفائی اکرم شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے موکل مناف کالیا کووفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک اہلکار نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اس لیے بھی انہیں مزید جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے تحویل میں نہیں دیا جاسکتا۔

سیشن جج سید ناصر علی شاہ نے دو گھنٹے تک وکلاء کے دلائل سننے کے بعد وکلائے صفائی کے تمام اعتراضات اور ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں۔

مناف کالیا،جاوید خانانی اور ان کے دو ساتھیوں کو دوبارہ مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔

ایف آئی اے حکام نےمزید جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کیا ملزموں کے وکیل نے کہا کہ انہیں دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔

مقامی مجسریٹ نےایک ملزم رستم علی کو عدالتی تحویل میں جیل بھجوادیا جبکہ دیگر تین ملزموں کو تین تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل پاکستان کی ایک بڑی فاریکس کمپنی ہے۔ایف آئی اے حکام نے ڈیڑھ ہفتے پہلے اس ادارے کے مالکان کو منی لانڈرنگ کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔مشیر داخلہ نےکہا تھا کہ جلد ہی وہ منی لانڈرنگ میں ملوث بعض اہم شخصیات کے ناموں کا اعلان کریں گے لیکن تاحال ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آسکا ہے۔

مناف کالیا چھ روز سے،جاوید خانانی آٹھ روز سے اور طارق محمود گیارہ روز سے ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔

اسی بارے میں
’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘
11 November, 2008 | پاکستان
کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع
10 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد