BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینک ہراساں نہ کریں: ہائی کورٹ

سندھ ہائی کورٹ
مرکزی بینک بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ان کے واجبات کی وصولی کے لیے رہنماء اصول جاری کرچکا ہے
سندھ ہائی کورٹ نے تمام بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ قرضوں کی وصولی کے لیے نجی فورس کا استعمال نہ کیا جائے اور قرضے داروں کو کسی صورت میں بھی ہراساں نہ کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس مسز قیصراقبال اور جسٹس محمود عالم رضوی نے بدھ کے روز یہ ہدایت گیارہ شہریوں کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے جاری کی۔

ان گیارہ شہریوں نے اپنی درخوستوں میں موقف اختیار کیا تھاکہ انہوں نے کریڈٹ کارڈ سمیت مختلف مدوں میں بینکوں سے قرضے لیے تھے مگر ان قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر بینکوں نے نجی فورس کے ذریعے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں ہراساں کیا اور بدتمیزی کی جو ایک غیر قانونی عمل ہے۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ تمام بینک نجی فورس کا استعمال نہ کریں اگر آئندہ ایسا کیا گیا تو متعلقہ بینک کا سربراہ اس کا ذمے دار ہوگا۔

قرضے داروں کے وکیل گوہر اقبال نے بتایا کہ بینکوں نے یہ طریقہ اپنایا ہوا تھا کہ ریکوری ٹیمیں گھروں پر نامناسب اوقات میں جاتی تھیں، ٹیلیفون پر دھونس دیتی تھیں اور اہل خانے کو ہراساں کیا جاتا تھا۔

درخواست گزاروں کا یہ موقف تھا کہ یہ ٹھیک ہے وہ قرض دار ہیں مگر پاکستان کا آئین کسی بھی فرد کی عزت، جان اور مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

’بینکوں کی اس طرح کی کارروایوں سے معاشرے میں توہین ہوتی ہے اور ذہنی اذیت دی جاتھی، کام کی جگہ پر بھی یہ ٹیمیں پہنچ جاتی ہیں کبھی کبھار ان کے ساتھ پولیس بھی ہوتی ہے، حالانکہ پولیس تو جان اور مال کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے۔‘

گوہر اقبال ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اگر وصولی کرنی ہے تو وصولی کے آرڈیننس دو ہزار ایک کے مطابق کیس دائر کیا جائے اور بینک قرضہ عدالت کے ذریعے حاصل کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں مرکزی بینک بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ان کے واجبات کی وصولی کے لیے رہنماء اصول جاری کرچکا ہے ، جس کے تحت تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے صارفین سے واجبات کی وصولی کے ضمن میں کارروائی شروع کرنے سے قبل اس امر کو یقینی بنائیں کہ وہ متعلقہ صارف کو اس پر واجب الادا ادائیگیوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں۔

بینک قانونی طریقے سےصارف کی رہائش گاہ، دفتر، یا کاروبار کے مقام پر جانے سے قبل متعلقہ صارف یا قرضدار کو واجب الادا رقم کی ادائیگی کے ضمن میں مراسلے یا ایس ایم ایس کے ذریعے چودہ دن کا نوٹس دیا جائے گا۔ جب کسی بینک یا مالیاتی ادارے کا عملہ ادائیگی وصول کرے تو اس کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ صارف کو پیشگی نوٹس دے اور اگر ایسا صارف کی درخواست پر کیا جائے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔

اسی طرح بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارے واجبات کی وصولی کی اپنی کوششوں کے ضمن میں اس امر کو یقینی بنائیں کہ صارف یا مقروض سے نامناسب وقت پر رابطہ نہ کیا جائے، بینک کا نام اور فون کال کا مقصد مکمل طور پر ظاہر کیے جائیں، اس نوع کے رابطے میں صرف قانونی اور قابل قبول کاروباری زبان اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ واجبات کی وصولیوں کے ضمن میں فون کالز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔

یاد رہے کہ بینکوں کے قرضے کی وصولی کے دوران قرض خواہوں اور بینکوں کی نجی عملے میں کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں کچھ قرضے داروں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ کراچی میں ایک نوجوان نے خودکشی کرلی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد