کالیا کو رہا نہیں کیا جا رہا: رحمان ملک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کالیا ’برادرز‘ کو رہا نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ کاروباری طبقے اور فاریکس کمپنیوں کے مالکان کو یقینی دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ ’وائٹ کالر کرمنلز‘ کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی مگر کسی کو حوالہ کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام لین دین قانونی طریقے سے بینکوں کے ذریعے کیا جائے۔ کراچی میں رحمان ملک نے بدھ کی شام کاروباری طبقے اور فاریکس ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل معلوم کیئے۔ ملاقات میں فاریکس ایسوسی ایشن، کاروباری طبقے اور حکومتی اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو کاروباری افراد کو درپیش مسائل کا تدارک کرے گی۔ مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالیا برادرز کو رہا نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ ’اگر انہیں رہا کرنے کے لیئے کہا تو میرے اوپر پتہ نہیں کتنی رشوت لینے کا الزام آ جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ کالیا برادرز کی ’کمپنی کا صرف ایک کمپیوٹر ڈی کوڈ کیا ہے تو اس سے انتیس ارب ڈالر کی غیر قانونی منتقلی کا پتہ چلا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حوالہ میں ملوث افراد کو ملک سے فرار ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ان لوگوں کے نام شامل کیئے گئے ہیں جن کا نام ایف آئی آر میں درج ہے یا کالیا اینڈ خانانی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔‘ رحمان ملک نے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ملکی معشیت کو بہتر بننانے کے لیئے اپنی رقومات بینک یا رجسٹرڈ کمپنیوں کے توسط سے بھیجیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سکینڈل کی وجہ سے جن لوگوں کی رقومات رہ گئی ہیں وہ اپنی رسید دکھاکر اڑتالیس گھنٹوں میں ایف آئی اے سے رقم لے جائیں، ان کی رقم پہلے کی طرح ڈوبے گی نہیں۔
فاریکس ایسو سی ایشن کے صدر ملک بوستان نے بی بی سی کو بتایا کہ مشیر داخلہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی بھی کمپنی کے خلاف اگر شکایت ملے گی تو اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا اور تمام شواہد اس کے سامنے رکھے جائیں گے، اس کے بعد اس کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ملک بوستان کے مطابق رحمان ملک نے انہیں بتایا کہ حکومت کوئی آپریشن نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتی ہے اور وہ بغیر کسی خوف و خطرے کے اپنا کاروبار جاری رکھیں۔ دوسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی بینک کرنسی کی منتقلی پر نظر رکھتی ہوئی آئی ہے اور وہ ہرگز سو نہیں رہی۔ان کے مطابق مرکزی بینک پالیسی ساز ادارہ ہے، یہ کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ جو کوئی کارروائی کرے۔ جس طرح دیگر ادارے کررتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فارین ایکسچینج کمپنیاں حوالہ نظام کے خاتمے کے لیئے بنائی گئیں تھیں جن کا مقصد حوالہ کے کاروبار کو قانونی دائرے میں لانا تھا، ان کمپنیوں کے قیام کے بعد کئی مقاصد حل کر لیئے گئے ہیں۔ شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب لوگ رقومات کی منتقلی غیر قانونی طریقے سے چھپ کر کرتے ہیں تو ان کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے جس کے لیئے انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ حالیہ کارروائی سے ثابت ہوگیا ہے کہ ریگیولیٹری اتھارٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ موثر کارروائی کے لیئے دو مسودے قانون سازی کے لیئے منتظر ہیں جب وہ منظور ہوجائیں گے تو مزید اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ ان کے مطابق ان قوانین کے بعد ایکسچینج کمپنی پر مانیٹری پالیسی کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فارن ایکسچینج ایکٹ مجریہ انیس سو سنتالیس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ جو التویٰ کا شکار ہے۔ فارن ایکسچینج ایکٹ لوگوں کو اجازت دیتا ہے کہ بغیر مطلوبہ اجازت کے جتنی رقم چاہیں وہ لے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے بتایا کہ خانانی اور کالیا کمپنی کے خلاف کارروائی حوالے کے عمل کی وجہ سے ہوئی ہے اور عبوری طور پر ان کا لائسنس تیس روز کے لیئے معطل ہوا ہے، مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘11 November, 2008 | پاکستان کرنسی سمگلنگ کے ملزم ریمانڈ پر09 November, 2008 | پاکستان خانانی کے بعد کالیا بھی ریمانڈ پر11 November, 2008 | پاکستان کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع10 November, 2008 | پاکستان پاکستان: ڈالر لانے لیجانے کا کاروبار11 November, 2008 | پاکستان آئی ایم ایف قرضہ، ایک ’عارضی سہارا‘10 November, 2008 | پاکستان بینک ہراساں نہ کریں: ہائی کورٹ 12 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||