BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 November, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خانانی اور ساتھیوں کا مزید ریمانڈ

مناف کالیا
مناف کالیا جنکا پہلے ہی ریمانڈ دیا جا چکا ہے
لاہورکی مقامی عدالت نے ایف آئی اے کو مالیاتی سکینڈل میں ملوث ملزم جاوید خانانی اور ان کے دو ساتھیوں کا مزید تین روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے گزشتہ ہفتے خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل کے دونوں مالکان یعنی جاوید خانانی اور مناف کالیا کو کرنسی کے مبینہ غیر قانونی لین دین کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے علاوہ گوجرانوالہ کے رستم علی خان اور طارق محمود بھی زیر حراست ہیں۔


جاوید خانانی، رستم علی خان اور طارق محمود کو مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا تو ایف آئی اے کے وکیل مزمل حسین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ملزموں سے غیر ملکی کرنسی برآمد کی ہے اور مزید انتالیس ارب روپے برآمد کرنا چاہتی ہے۔

ایف آئی اے حکام نے ملزموں کے مزید سات روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔
جاوید خانانی کے وکیل اعجاز احمد خان نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ایف آئی اے حکام نے اگر کوئی تفتیش کرنا بھی ہے تو وہ ان کمپیوٹروں کے ذریعے کر سکتی ہے جو پہلے سے ان کے قبضے میں ہیں۔

جاوید خانانی کے وکیل نے کہا کہ اس تفتیش کے لیے جاوید خانانی اور دیگر ملزموں کی جسمانی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے یا عدالتی تحویل میں جیل بھجوادیا جائے۔

مقامی مجسٹریٹ نے تینوں ملزموں کا مزید تین تین روز کا جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ دیگرملزموں رستم علی خان اور طارق محمود کی ان کے وکیل سے ملاقات کروائیں۔

جاوید خانانی اس سے پہلے سات روز کا جسمانی ریمانڈ گزار چکے ہیں۔خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل کے دوسرے ڈائریکٹر مناف کالیا پہلے سے ہی سترہ نومبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا
 کرنسی ڈیلر حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق کرنسی کا لین دین کرتے ہیں اور انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے
ملک بوستان

کے اینڈ کے یعنی خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل پاکستان میں فارن کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور پاکستان میں فارن کرنسی ایکسچینج کے کاروبار پراس کمپنی کاچالیس فیصد کنٹرول ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور الیکٹرانک آرڈینینس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ملزمان کی فرنچائزڈ کمپنیاں ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں‘۔

عدالت میں فاریکس ایسویشن آف پاکستان کے رہنما ملک بوستان اور دیگر کرنسی ڈیلر بھی موجود تھے۔ ملک بوستان نے کہا کہ کرنسی ڈیلر حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق کرنسی کا لین دین کرتے ہیں اور انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے۔

ادھر مشیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حوالہ اور ہنڈی ملکی معشیت کے لیے کینسر ہیں اور وہ پاکستان میں حوالہ یا ہنڈی کا کاروبار نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنکوں کو بھی ہدایت کررہے ہیں کہ وہ ترسیلات زر کا نظام بہتر کریں اور رقم اڑتالیس گھنٹے کے اندر ادا کی جائے۔

اسی بارے میں
’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘
11 November, 2008 | پاکستان
کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع
10 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد