BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد میں دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ

باجوڑ ایجنسی
ملک رحمت اللہ اور انکے خاندان کے آٹھ افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ جمعہ کو ادا کی گئی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔

باجوڑ سول ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طبی امداد کے لیے لائے گئے پانچ افراد میں سے امامِ مسجد اور ایک اور شخص زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے ہیں۔

ان افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی گزشتہ روز کے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد اب گیارہ ہوگئی ہے۔

مرنے والوں میں ماموند قبیلے کے ایک مشر اور طالبان مخالف لشکر کے ایک سربراہ ملک رحمت اللہ اور انکے خاندان کے آٹھ دیگر افراد شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک رحمت اللہ اور انکے خاندان کے آٹھ افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ جمعہ کی صبح تحصیل ماموند میں انکے آبائی گاؤں بدان میں ادا کی گئی جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ طالبان مخالف لشکر کے سربراہ ملک رحمت اللہ اور دیگر افراد اس وقت بم دھماکے کا نشانہ بنے جب وہ جمعرات کو اپنے گھر کے قریب واقع مسجد میں مغرب کی نمازادا کرنے میں مصروف تھے۔

واضح رہے کہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر کا تعلق بھی بدان گاؤں سے ہے۔ ملک رحمت اللہ کو سخت گیر طالبان مخالف مشران میں شمار کیا جاتا تھا۔ ابھی تک کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

چھ نومبر کو بھی ایک مبینہ خود کش بمبار نے سالارزئی قبلے کے طالبان مخالف ایک جرگہ کو نشانہ بنایا تھا جس میں پچیس افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں لشکر کے سربراہ میجر ریٹائرڈ فضل کریم اور دیگر آٹھ قبائلی مشران بھی شامل تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جب سے حکومت نے مبینہ عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے قبائلی لشکر منظم کرنے کی پالیسی وضع کی ہے تب سے نامعلوم افراد کلی جانب سے قبائلی جرگوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔اس نوعیت کے زیادہ تر واقعات باجوڑ ایجنسی میںہی پیش آئے ہیں۔

اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں طالبان اور قبائلی لشکروں کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں جس میں بھی متعدد قبائلی مشران اور مسلح رضا کار ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی مشران کو گلا کاٹ کر مارا بھی گیا ہے۔

چند روز قبل بھی ایک جھڑپ کے دوران سات قبائلی مشران کو طالبان نے اغواء کیا تھا جن میں سے تین طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ چار اب بھی انکی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں
سوات، باجوڑ گولہ باری 14 ہلاک
20 November, 2008 | پاکستان
سوات: فوج پر حملہ ایک ہلاک
18 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد