BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 02:56 GMT 07:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدید سردی، 200 ہلاکتیں

کوئٹہ
ضلعی پولیس افسر کے مطابق زیارت کے چوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی کافی تعداد میں تباہی ہوئی ہے

بلوچستان کے شمالی علاقوں میں بدھ کی صبح آنے والے زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم دو سو ہو گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد تین سو ہے۔ اسی دوران سینکڑوں لوگوں نے کھلے آسمان تلے آگ جلا کر رات گزاری۔ زلزلے کے بعد کم شدت کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہا اور ان کی تعداد دو سو پچاس سے زیادہ بتائی گئی ہے۔


محکمہ موسمیات کوئٹہ کے ڈائریکٹر سیف اللہ شامی نے بتایا ہے کہ کل پانچ بجے کے بعد سے جمعرات کی صبح تک اڑھائی سو کے لگ بھگ چھوٹے زلزلے آچکے ہیں جن کی شدت تین اعشاریہ چھ سے لیکر چار اعشاریہ پانچ تک ریکارڈ کی گئی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ان زلزلوں کا مرکز کوئٹہ کے شمال مشرق میں ساٹھ کلومیٹر دور بتائی گئی ہے اور زلزلوں کا سلسلہ دو سے تین ہفتوں تک جاری رہے گا جبکہ زمین کے نیچے پلیٹوں کو اپنی جگہ بنانے کے لیے دو ماہ تک لگ سکتے ہیں

ان جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں نے گھروں سے باہر رات گزاری اور اکثر مقامات پر لوگ سڑکوں کے کنارے اور گلیوں میں بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ بہت سے لوگ بڑی عمارتوں سے دور رہنے کے لیے دیہات میں منتقل ہو گئے ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے امداد پہنچانے میں بھی مشکلات پیش آئی ہیں۔ زیارت اور اس کے قریب کے علاقے سڑک کے قریب ہیں لیکن بہت سے متاثرہ علاقے ایسے ہیں جہاں حکومتی اداروں کے دعووں کے برعکس ضروری امداد نہیں پہنچی۔ یہ انتہائی سرد علاقے ہیں اور کچھ لوگوں نے سرکاری عمارتوں میں پناہ لے لی ہے لیکن مزید زلزلے کے خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ عمارتوں میں جانے کو تیار نہیں ہیں۔

متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں نے بھی امدادی کیمپ لگائے ہیں۔

ایک ضلعی پولیس افسر کے مطابق زیارت کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی کافی تعداد میں تباہی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں میں ایک ہی گھر کے دس سے پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

زیارت میں مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں جبکہ مقامی قبرستانوں میں ہلاک شدگان کی تدفین بھی کی گئی۔

بلوچستان میں بدھ کی صبح چالیس منٹ کے وقفے سے زلزلے کے دو جھٹکے آئے۔ پہلا زلزلہ ساڑھے چار بجے آیا لیکن اس کی شدت زیادہ نہیں تھی جبکہ سوا پانچ بجے دوسرا زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ دو بتائی گئی ہے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ شہر سے ساٹھ کلومیٹر دور شمال مشرق میں بتایا گیا ہے۔

متاثرین زلزلہزلزلہ کے 400 اپاہج
وہ جنہیں آٹھ اکتوبر کا زلزلہ فالج دے گیا
متاثرین کا احتجاجبحالی کب تک
کام یقیناً مشکل ہے پر متاثرین کو بتانا ہوگا
اب سروئرز کے جھٹکے
زلزلہ متاثرین کو جھٹکوں پر جھٹکے
مشکلات کا سلسلہ
کشمیر زلزلے کے تین سال بعد تعمیر نو کا انتظار
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد