زلزلے میں 160 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے زیارت اور اس کے مضافاتی علاقوں میں 160افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے سینیئر وزیر مولانا عبدلواسے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے میں کم از کم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اضافے کا خدشہ ہے۔ دریں اثناء بلوچستان میں شام پانچ بج کر بتیس منٹ پر ایک اور شدید زلزلہ آیا جس کی امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق شدت چھ اعشاریہ دو تھی۔ یہ تازہ جھٹکا کوئٹہ، سبی، زیارت اور دیگر علاقوں میں محسوس کیا گیا جس کی وجہ سے لوگ خوف سے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔ یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ لوگ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔
زلزلے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے مواصلاتی نظام خراب ہو گیا تھا۔ اس سے قبل بلوچستان کے علاقے زیارت کے تحصیل ناظم کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے زلزلے میں زیارت اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہو چکے ہیں۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق زیارت کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی کافی تعداد میں تباہی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں میں ایک ہی گھر کے دس سے پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زیارت میں مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں جبکہ مقامی قبرستانوں میں ہلاک شدگان کی تدفین بھی شروع ہے۔ بلوچستان میں چالیس منٹ کے وقفے سے زلزلے کے دو جھٹکے آئے۔ پہلا زلزلہ ساڑھے چار بجے آیا لیکن اس کی شدت زیادہ نہیں تھی جبکہ سوا پانچ بجے دوسرا زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ دو بتائی گئی ہے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ شہر سے ساٹھ کلومیٹر دور شمال مشرق میں بتایا گیا ہے۔
بلوچستان کے بیشتر شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں ایک سرکاری اہلکار کے مطابق صرف ایک گاؤں میں کم سے کم اسّی لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ زیارت کے تین دیہاتوں میں بڑی تعداد میں مکانات منہدم ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق زیارت کے دو دیہات ورچوم میں امداد کے لیے طبی سامان اور عملے کے ساتھ دو ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیارت اور پشین میں فرنٹیر کانسٹیبلری کے دستوں کو زلزلے سے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے۔ ہلال احمر کے سیکریٹری جنرل الیاس خان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے اور لوگوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے دو ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔ ’ہم نے سردی کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے سویٹر، ٹینٹ اور چولھے وغیرہ روانہ کر دیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں موجود سہولیات کے بارے میں میں اس وقت بات کر سکوں گا جب ہماری ٹیمیں وہاں پہنچ جائیں گی۔‘ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار سہیل الرحمان نے کہا کہ صرف ایک گاؤں میں اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تقریباً پانچ سو گھر تباہ ہوئے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ علاقے میں گھر مٹی کے بنے ہوئے تھے اور کمزور تھے۔ زیارت سے تعلق رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالرحیم زیارتوال نے بتایا ہے کہ زیارت کے دیہات کواس، ورچوم اور کانڑ میں بڑی تعداد میں مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں پہاڑی تودے گرے ہیں جن سے زیادہ جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مکانات کے ملبے کے نیچے لوگ ہیں جنہیں باہر نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ادھر پشین کے علاقے خانوزئی کے قریب خوشاب سے ایک خاتون سمیت تین افراد کے ہلاک اور آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زیارت شہر میں یہ اعلانات بھی کیے گئے ہیں کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ دیہاتوں میں پہنچ جائیں۔ زلزلے کے پہلے جھٹکے کے بعد لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اس کے بعد زلزلے کے شدید جھٹکے آئے جس کے ساتھ کوئٹہ شہر میں بجلی کی ترسیل معطل ہوگئی۔ اس دوران شہر میں ہوائی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ شمالی بلوچستان کے دیگر علاقے جیسے قلعہ عبداللہ، لورالائی اور ژوب میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ یاد رہے مئی سنہ انیس سو پینتیس میں آنے والے ایک زلزلے کوئٹہ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا اور امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس کے نتیجہ میں ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں پاکستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ26 October, 2008 | پاکستان زلزلہ متاثرین:کیا پھر سرما بغیر گھر کے08 October, 2008 | پاکستان پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ06 September, 2008 | پاکستان بلوچستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ05 May, 2008 | پاکستان افغانستان، پاکستان، انڈیا میں زلزلہ03 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||