BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: آٹے کی نئی قیمت مقرر

آٹا کی کمی
مل مالکان کو ملز ایریا میں پانچ دکانیں قائم کرنے کا کہا ہے: سندھ وزیر اطلاعات
سندھ آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کے بعد صوبائی حکومت نے آٹے کا سرکاری نرخ چوبیس روپے فی کلو مقرر کیا ہے۔ اور اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرنے کےلیئے وزیراعلیٰ ہاؤس میں شکایتی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو صوبائی کابینہ کےاجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ پنجاب حکومت سے باضابطہ طور پر گزارش کی جائے گی کہ وہ گندم کی نقل و حرکت پر پابندی میں نرمی برتیں تاکہ سندھ میں گندم کی قلت سے نمٹا جاسکے۔

اس اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے تسلیم کیا کہ صوبے کو گندم کی شدید قلت کا سامنا ہے، کیونکہ یہاں گندم کی طلب زیادہ اور فراہمی کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فلور ملز کو حکومت بائیس رپے فی کلو گندم فراہم کرے گی اور وہ چوبیس رپے فی کلو آٹا فروخت کریں گے۔ کچھ ملز مالکان کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ ملز کے ایریا میں پانچ دکانیں قائم کریں گے جہاں پر چوبیس روپے فی کلو آٹا فروخت کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں اگر نفع یا نقصان ہے وہ الگ بات ہے مگر حکومت جو گندم فراہم کرے گی اس آٹے کی قیمت چوبیس رپے فی کلو ہوگی۔

یاد رہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ میں گندم کی قلت کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے، فی کلو آٹا تیس رپے سے لیکر چالیس رپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے کنزیومر ایکٹ پر عمل درآمد کیا جائےگا، جس کے لیے ای ڈی اوز کو مئجسٹریٹی اخیتارت دیئے جا رہے ہیں۔

شازیہ مری نے بتایا کہ وزیر قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عدالتوں سے رجوع کریں اور عارضی بنیادوں پر انتظام کریں تاکہ افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے جائیں، بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی وجہ سے یہ اختیارات ان افسران کے پاس نہیں رہے جس وجہ سے پرائس کنٹرول پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وزراء پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ مختلف اضلاع میں جاکر قیمتوں اور امن امان کے بارے میں شکایتیں سنیں گے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بیٹھیں گے جس کے بعد اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کریں گے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں شکایت سیل کے بارے میں صوبائی وزیر نے بتایا کہ روزانہ ایک صوبائی وزیر ٹیلیفون پر عوام کی شکایتیں سنیں گے اور ان کی تلافی کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی سابق دور حکومت میں بھی ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

گندمیہ اناج کہاں گیا؟
ذخیرہ اندوز، سمگلر بحران کے ذمہ دار؟
آٹے کے بحران ذمہ دار کون ہے؟
آٹے کے بحران پر سوال بے شمار، جواب ندارد
آدمی آٹا لے کر جا رہا ہےآٹے کی تلاش میں
کوئٹہ کا یہ حال ہے تو دور افتادہ علاقوں کا کیا؟
آٹا بحرانسندھ میں آٹا غائب
فلوز ملز پر رینجرز تعینات مگر آٹا دستیاب نہیں
معیشتمعیشت اور بحران
’پاکستانی معیشت پر چندگروہوں کا قبضہ‘
کیا آپکو معلوم ہے؟
پاکستان میں آٹا سستا ہے یا صدر کو خبر نہیں
آٹے کا مسئلہ
آٹا دستیاب تو ہے مگر مہنگا بہت ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد