پولیس کی جیلوں میں جا کر تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس اہلکاروں کی ٹیمیوں نے پیر کو ملک کی مختلف جیلوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ میریئٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے میں کونسا گروپ ملوث ہوسکتا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے الزام میں گرفتار ہونے والے سب سے زیادہ ملزمان بہاولپور جیل میں ہیں۔ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جائے حادثہ سے جو نمونے حاصل کیے ہیں اُن میں خودکش حملہ آور کے جسم کےکچھ اعضا بھی ملے ہیں جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ اُن کےٹیسٹ سے کچھ ایسی چیز سامنے آسکے جس سے اس واقعہ کی تحقیقات میں مدد مل سکے۔ میریئٹ ہوٹل اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ہے جہاں پر مشیر داخلہ کے بقول سیکورٹی کو انتہائی سخت کیا گیا تھا اور اس زون میں فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اہلکار بھی تعینات تھے۔ اتنی سیکورٹی ہونے کے باوجود ایک ڈمپر کا شاہراہ دستور سے ہوتے ہوئے اس ہوٹل تک پہنچنا سیکورٹی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ اتوار کے روز مشیر داخلہ نے کہا تھا کہ سنیچر کو صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں افطار پارٹی کا اہتمام خودکش حملے کا شکار ہونے والے ہوٹل میں کیا گیا تھا تاہم افطاری سے کچھ دیر پہلے یہ پروگرام تبدیل کردیا گیا اور وزیر اعظم ہاؤس میں اس کا انتظام کیا گیا اور یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔ تاہم وزیر اعظم نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندوں کا نشانہ وزیر اعظم ہاؤس تھا جہاں پر ملک کی اہمم شخصیات جمع تھیں۔اس تقریب میں شرکت کرنے والے صحافیوں کا بھی کہنا ہے انہیں اس تقریب میں شرکت کے لیے وزیر اعظم ہاؤس میں آنے کے دعوت ملی تھی۔ ادھر ایک عینی شاہد نعیم محمود کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران پولیس کے پاس سرچ لائٹ تک نہیں تھی ۔اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور دوسرے افسران تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کو وائرلیس کے ذریعے یہ پیغام دیتے رہے کہ سوئی گیس کے محکمے کے اہلکاروں کو ساتھ لیکر آئیں لیکن وہ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ تاخیر سے سوئی گیس کے محکمے کے اہلکاروں کو ساتھ لیکر جائے حادثہ پر پہنچے۔ اسلام آباد پولیس جب ریسکیو آپریشن میں ناکام ہوگئی تو پھر فوج کو مدد کے لیے طلب کیا گیا۔ اس حادثے کے بعد اسلام آباد پولیس کے ریسکیو ون فائیو کی کارکردگی پر سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ اس سینٹر پر حکومت کے کروڑوں روپیہ خرچ کرکےانہیں گاڑیاں ایمبولینس گاڑیوں کے علاوہ دوسرا سازوسامان بھی لیکر دیا جو اس واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن میں کچھ کام نہ آیا۔ واضح رہے کہ ریسکو ون فائیو صرف اسلام آباد کے شہری علاقوں میں کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اسلام آباد پولیس اور دوسرے متعلقہ اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی ہوگی اور انہیں جدید آلات سے لیس کرنا ہوگا۔ اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو پھر ایسے واقعات ہوتے رہے گے جس سے نہ صرف غیر ملکیوں بلکہ پاکستانی عوام میں بھی عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کرتا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||