پاکستان: ڈیبٹ کارڈ زیادہ مقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ اور کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان میں سڑسٹھ لاکھ افراد ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں جو کل آبادی کا چار فیصد ہیں۔ بینک کی جانب سے سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2007-08 کے دوران زیرِ استعمال ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز کی تعداد پندرہ اعشاریہ آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ سڑسٹھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اضافے کی شرح تریپن فیصد تھی۔ کریڈٹ کاڈرز کی تعداد میں مالی سال 2006-07 کے دوران چوہتر فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم مالی سال 2007-08 کے دوران اس میں تقریباً نو فیصد کمی دیکھی گئی ہے اوراب پندرہ لاکھ افراد کریڈٹ کارڈز استعمال کررہے ہیں۔ اس کے برعکس ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد پچاس لاکھ تک پہنچ چکی ہے جس میں تقریباً پچیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال 2007-08 کے دوران ملک بھر میں آٹو میٹڈ ٹیلر مشینوں (اے ٹی ایم) کی مجموعی تعداد اکیس فیصد اضافے کے ساتھ تین ہزار ایک سو اکیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال کے دوران اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد میں سترہ فیصد اضافہ ہوا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2007-08 کے دوران اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے ہونے والا لین دین تعداد اور مالیت کے اعتبار سے بالترتیب بتیس اور تینتالیس فیصد اضافے کے ساتھ چھ کروڑ اناسی لاکھ اور چارسوتریپن ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ اس سے گذشتہ سال یہ اضافہ بالترتیب سینتالیس اور پچاس فیصد تھا۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق ملک میں الیکٹرانک بینکنگ (ای بینکنگ) تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران مالیت اور تعداد دونوں اعتبار سے الیکٹرانک بینکنگ کے تحت لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے 2007-08 کے دوران الیکٹرانک بینکنگ کے ذریعے مجموعی طور پر 124.6 ملین کی تعداد میں لین دین ہوا، جس کی مالیت 139 کھرب روپے بنتی ہے، اس طرح مالی سال2006-07 کےمقابلے میں مالی سال 2007-08 کے دوران الیکٹرانک بینکنگ کے لین دین میں تعداد کے اعتبار سے پچیس اور مالیت کے اعتبار سے بتیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ملک میں مالی سال 2007-08 کے دوران کاغذی بنیاد پر ہونے والے لین دین میں تعداد کے اعتبار سے تین فیصد اور مالیت کے اعتبار سے اکیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور کاغذی بنیاد پر ہونے والے لین دین کا حجم334.4 ملین اور اس کی مالیت 137.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ اس سے گذشتہ مالی سال کے دوران کاغذی بنیاد پر لین دین میں تعداد کے اعتبار سے 48.1 فیصد اور مالیت کے اعتبار سے 29.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ |
اسی بارے میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ29 July, 2008 | پاکستان اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس کا اجراء09 September, 2007 | پاکستان سرحد معیشت: تصویر کا دوسرا رُخ07 September, 2007 | پاکستان ساڑھے چھ ارب ڈالر کا خسارہ؟ 16 May, 2005 | پاکستان فوج کی ’منڈی مویشیاں‘13 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||