BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 September, 2008, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاشی مشکلات، نجکاری کا فیصلہ

ڈاکٹر سلمان شاہ نجکاری کے حق میں ہیں۔
گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر خوراک اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دوسرے عالمی عوامل کی وجہ سے پاکستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے نمٹنے کے لئے حکومت نے کچھ ضروری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے ایک اہم قدم مخصوص سرکاری اداروں کو نجی شعبے کی تحویل میں دینا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے سرکاری اخراجات کو کنٹرول کرنے، سبسڈیاں ختم کرنے اور ترقیاتی اخراجات کے لئے ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور منتخب سرکاری اداروں کو نجی شعبے میں دینے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے مشیر خزانہ رہنے والے ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ نجکاری کو جاری رکھنا ایک درست اور بہتر فیصلہ ہے اور اسی میں عوام کی بہتری بھی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا بلکہ ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

 ایک زمانہ تھا کہ آپ کو ٹیلی فون کنکشن سفارش پر لینا پڑتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ دس کمپنیاں کنکشن کے لئے آپ کا پیچھا کررہی ہوتی ہی
ڈاکٹر سلمان شاہ

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ٹیلی کام سیکٹر کی مثال دی اور کہا کہ اس سروس نے نجی شعبے میں جانے کے بعد بڑی ترقی کی ہے اور عوام کے لئے سہولت بھی پیدا ہوئی ہے۔

’ایک زمانہ تھا کہ آپ کو ٹیلی فون کنکشن سفارش پر لینا پڑتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ دس کمپنیاں کنکشن کے لئے آپ کا پیچھا کررہی ہوتی ہیں۔ تو نجکاری (کے غلط ہونے) کے بارے میں پایا جانے والا تصور ایک خاص قسم کی سوچ ہے اگر اسے ٹھیک طریقے سے کیا جائے تو اس سے عوام کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

لیکن سینئر ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی ڈاکٹر سلمان شاہ کے نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی نجکاری سے ملک کی معیشت کو فائدے کے بجائے نقصان ہوا۔

’جتنے اثاثے غیرملکی کمپنیوں کو بیچے گئے ہیں وہ پاکستان میں روپوں میں کماتے ہیں اور اپنا منافع ڈالر میں باہر بھیجتے ہیں تو اگر ہم اسی ٹریک پر رہے، ہم نے اثاثے بیچ کر آج ڈالر کمانے ہیں تو ہم آج تو سو ڈالر کمالیں گے لیکن اگلے دس پندرہ بیس سالوں تک ہم سو ڈالر سے زیادہ سالانہ باہر بھیجتے رہیں گے اور اس سے زر مبادلہ میں اضافے کے بجائے کمی ہوگی۔‘

قیصر بنگالی طویل عرصے تک معاشیات پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو معیشت کی بہتری کے لئے نجکاری کے بجائے کچھ اور اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔

’ملک میں پیٹرول کی راشننگ کرکے پیٹرول کی درآمد کم کی جاسکتی ہے۔ اگر ریلوے کا نظام بہتر کیا جائے جو میرے خیال میں ایک سال کے اندر ہوسکتا ہے تو مال کے نقل و حمل کو ہم روڈ سے ریل پر منتقل کرسکتے ہیں۔ اس سے ڈیزل کا استعمال کم ہوسکتا ہے۔‘

قیصر بنگالی نے بتایا کہ پاکستان جو تیل درآمد کرتا ہے اسکا پچپن فیصد ڈیزل ہوتا ہے اور ڈیزل کا استعمال اس لئے زیادہ ہے کہ ملک کے اندر اشیاء کی نقل و حمل پچانوے فیصد ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کئی غیرضروری سرکاری اداروں کو بند کرکے سویلین شعبے کے غیرترقیاتی اخراجات میں اربوں روپے کی کمی لاسکتی ہے۔ ان کے بقول صرف وفاقی وزارت تعلیم میں تقریباً ساٹھ ایسے خودمختار ادارے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے۔

اسی طرح ان کے مطابق ساحلی حدود کے تحفظ کے لئے کوسٹ گارڈ کا ادارہ قائم ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اسی کام کے لئے ’میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی‘ بھی کام کررہی ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان کی اصل اپوزیشن
25 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد