پی ایس او: نجکاری کا ریکارڈ طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے پاکستان میں تیل کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی پی ایس او کی نجکاری کے خلاف ایک مقدمے میں تمام بولی دینے والوں کا ریکارڈ اٹھائیس جون کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس فلک شیر پر مشتمل ایک بنچ نے پی ایس او کی نج کاری سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ عدالت نج کاری کے عمل پر نظر رکھے گی۔ پی ایس او کی نج کاری کے خلاف یہ مقدمہ اٹک گروپ نے دائر کیا تھا۔ گروپ کے وکیل علی سبطین فاضلی نے عدالت کے سامنے کہا کہ ان کی کمپنی نے بولی کی تمام شرائط پوری کی تھیں لیکن نج کاری کو ان سے خفیہ رکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے نیشنل ریفائنری کی بولی میں حکومت کو آٹھ سو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ مقدمے میں نج کاری کمیشن کی نمائندگی وسیم سجاد نے کی۔ عدالت نے بولی دینے والے کو بھی اس مقدمے میں فریق بنانے کا حکم دیا۔ | اسی بارے میں نجکاری کمیشن کو عدالتی نوٹس06 April, 2007 | پاکستان نجکاری کا فائدہ کیا؟07 September, 2006 | پاکستان ’نجکاری میں قابلِ اعتراض عجلت‘08 August, 2006 | پاکستان سٹیل مل: ازسرِنو نجکاری منظور02 August, 2006 | پاکستان کراچی بجلی بحران پرہائی کورٹ نوٹس 03 July, 2006 | پاکستان پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کیوں؟04 June, 2006 | پاکستان سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر01 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||