نجکاری کا فائدہ کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کو عدالتی فیصلے کے تحت کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ٹھٹہ سیمنٹ فیکڑی کی مزدور یونین نے بھی الزام لگایا ہے کہ فیکڑی کی نجکاری کرنے کے لیے اسے جان بوجھ کر نقصان میں دکھایا گیا ہے حالانکہ یہ فاہدہ میں تھی۔ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کی چمنی سے اسی طرح سے دھواں نکل رہا ہے، جیسے تین سال پہلے نکلتا تھا۔ آج بھی وہی مزدور کام کر رہے ہیں، جو پہلے کرتے تھے۔ مگر آج انہیں نہ ملازمت کی ضمانت ہے نہ ہی وہ سہولیات جوملک میں رائج لیبر قوانین کے تحت دو سال قبل انہیں حاصل تھیں۔ پاکستان حکومت نے سرکاری شعبے میں چلنے والی ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کو فروری دو ہزار چار میں نجی شعبے کے حوالے کردیا تھا۔ پاکستان سٹیل ملز حاصل کرنے میں ناکام ہونے والے عارف حبیب کے العباس گروپ نے ساڑھے نو روپے فی شیئر کے حساب سے سات سو ترانوے اعشاریہ پچہتر ملیئن روپے میں یہ فیکٹری حاصل کی۔اس گروپ کی پہلے بھی عیسیٰ اور جاویدان کے نام سے دو سیمنٹ فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ مزدور رہنما نجکاری کے اس سودے کے شفاف ہونے پر شبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی طور پر فیکٹری کو نقصان میں دکھا کر اسے بیچ دیا گیا تھا۔ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری مزدور یونین کے سابق جنرل سیکریٹری اور سیمنٹ فیکٹریز ایمپلائیز فیڈریشن سندھ زون کے سیکریٹری محمد ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ فیکٹری منافع میں تھی، نقصان تو جان بوجھ کر دکھایا گیا۔ فروخت کیے جانے سے کچھ عرصہ قبل منافع میں سے پانچ فیصد ملازمین کو دیا گیا تھا ۔ مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ فیکٹری کی اصل لاگت ساٹھ کروڑ کے اندر تھی جبکہ فروخت ایک ارب پندرہ کروڑ میں کی گئی۔ اس دوران حکومت نے اس میں سے کرورڑوں روپے کمائے۔ انہوں نے اس سودے میں اعلی حکام پرکرپشن کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کی فروخت میں نجکاری کمیشن بھی ملوث ہے۔ موجودہ وقت فیکٹری میں سوا پانچ سو کے قریب ملازمین کام کر رہے ہیں، جن میں ایک سو ستتر افسران ہیں۔ زیادہ تر ملازمین ٹھیکیدار کے ماتحت ہیں۔ مینجر جنرل ایڈمنسٹریشن کرنل مسعود کا کہنا ہے نجی شعبے میں آنے کے بعد فیکٹری میں ترقی ہوئی ہے۔ پہلے فیکٹری میں یومیہ ایک ہزار پچاس ٹن سیمنٹ تیار ہوتا تھا اور اب اپ گریڈ کرنے کے بعد پیدارواری صلاحیت میں پانچ سو ٹن یومیہ کا اضافہ ہوا ہے۔ کرنل مسعود کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ ملازمین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ فیکٹری میں مستقل ملازمین ہیں، لیکن زیادہ تر ٹھیکیداروں کے ماتحت ہیں۔ اس سوال پرکہ ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے ملازمین کی مراعات میں کمی تو نہیں ہوئی، کرنل مسعود کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں، ان کو تمام سہولیات دی جارہی ہیں۔ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری میں سولہ سال سے کام کرنے والے محمد جمن کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ڈیلی ویجز پرکام کرتا تھا اور تنخواہ کم تھی، اب سب کی تنخواہیں بڑھی ہے اور بونس بھی دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے دعوے کی تردید کی اور شکوہ کیا کہ اب بھی طبی سہولت حاصل نہیں ہے نہ ہی ملازمت کا کوئی تقرر نامہ دیا جاتا ہے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ جب وہ ریٹائر ہوں گے تو انہیں اولڈ ایج بینیفٹ ملے گا۔ ایک اور ملازم کے جو اٹھارہ سال سے ملازمت کر رہا ہے کہنا ہے کہ پہلے سے اب صورتحال میں بہتری آئی ہے، موجودہ انتظامیہ نے تنخواہ بڑھائی ہے اور بونس بھی دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے جب فیکٹری سرکاری تحویل میں تھی تو صرف مستقل ملازمین کو بونس دیا جاتا تھا۔ اس وقت کم سے کم تنخواہ چھ ہزار روپے ہے، جبکہ پہلے پچیس سو سے تین ہزار روپے تھی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں تقرری کے لیٹر نہیں دیئے جاتے۔مینجر ایڈمنسٹریشن نے اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا دعویُ ہے کہ سب ملازمین کو تقرری کے لیٹر جاری کیے جاتے ہیں۔ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری جب حکومت کے زیر انتظام تھی تو یونین سازی کی اجازت تھی مگر اب مزدور مالکان کے بارے میں بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ سابق یونین رہنما ابراہیم خشک کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد مزدوروں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اب ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں۔ کرنل مسعود کہتے ہیں کہ نجکاری کے بعد اگر کوئی ورکر یا افسر کام نہیں کرنا چاہتا تو اس طرح کے لوگوں کو خدا حافظ کہا گیا کیونکہ ایسے آدمی دوسروں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ سیمنٹ فیکٹریز ایمپلائیز فیڈریشن سندھ زون کے سیکریٹری محمد ابراہیم نے فیکٹری کی نجکاری کی تاریخ کے بارے میں بتایا کہ نوے کی دہائی میں حکومت نے فیکٹری کی نجکاری کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے خلاف مزدور یونین کی آئینی درخواست پرسندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا مگر جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہوا توعدالت نے درخواست خارج کردی ۔ انہوں نے بتایا کہ سن دو ہزار دو کو ایک مرتبہ پھر فیکٹری کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا تو ملازمین نے جنرل باڈی کےاجلاس میں فیصلہ کیا کہ انہیں پہلے واجبات ادا کیے جائیں پھر ملز فروخت کی جائے۔ مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ اس ڈر کی وجہ سے کہ حکومت کہیں اس فیکٹری کو بند نہ کردے، مزدوروں نے نجکاری کو قبول کیا گیا۔ ظاہر ہے مزدور اسٹیبلشمینٹ سے جنگ تو نہیں کرسکتے تھے۔ ٹھٹہ شوگر ملز کا تجربہ ان کے سامنے تھا۔ جہاں فیکٹری بند ہوگئی اور لوگ بھوک مر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گولڈن ہینڈ شیک سکیم کے تحت ملازمین کو ون پلس ٹواور ون پلس فورگریجویٹی کے فارمولے کےتحت ریٹائرمنٹ دی گئی تھی۔ نجکاری کمیشن سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ٹھٹہ سیمنٹ کمپنی نے انیس سو بیاسی میں پیداوار شروع کی اور اس کی یومیہ پیداوار ایک ہزار ٹن یومیہ تھی۔ دیگر سرکاری کارپوریشنوں کی طرح ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری بھی کرپشن کی لپیٹ میں آئی۔موجودہ حکومت کے دور میں قومی احتساب بیورو نے سابق جنرل مینجر ریاض رضوی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جو بعد میں پلی بارگین ( سودے بازی کے ذریعے قبولیت) کے ذریعے بری ہوگئے۔ ان پر اکیس اعشاریہ چوراسی ملیئن روپے خردبرد کرنے کا الزام تھا۔ فیکٹری کے ایک سابق افسر ابراہیم عباسی کا کہنا ہے کہ اس فیکٹری کے قیام کا ایک مقصد مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی طور پر اس فیکٹری میں پچانوے فی صد افسران مقامی تھے۔ لیکن موجودہ مالکان نے مقامی لوگوں کو نوکری سے نکال دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کے حصے کی کلب، کھیلوں، حج، اور بینولینٹ فنڈ کی رقم بھی موجودہ مالکان کے حوالے کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال دوہزار چار تک فیکٹری بجلی کے بل کی شکل میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے، گیس کے بل کی صورت میں ساٹھ لاکھ روپے، ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں تین کروڑ روپے حکومت کو ادا کرتی تھی۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ نجی شعبے میں جانے کے بعد ان ادائیگیوں کو دیکھنا چاہئے۔ محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ فیکٹری کی نجکاری کے سودے میں سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل رہائشی کالونی کی زمین شامل نہیں کی گئی۔ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری سے قبل زیل پاک سیمنٹ فیکٹری اور بعد میں روہڑی سیمنٹ فیکٹری کو حکومت نے نجی شعبے کے حوالے کیا ہے۔ مزدور رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے مزدوروں کے حقوق تو غصب ہوئے ہیں مگر نجی شعبے کی من مانی کی وجہ سے سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے عام آدمی بھی متاثر ہوا ہے۔ سیمنٹ فیکٹریز ایمپلائیز فیڈریشن سندھ زون کے سیکریٹری محمد ابراہیم بتاتے ہیں کہ جب ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری فروخت ہوئی تھی تو سیمنٹ کی بوری ایک سو ستر اور ایک سو اسی روپے تھی، آج پونے تین سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سابق افسر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبے میں تیار ہونے والے سیمنٹ کی قیمت اور نجی شعبے کی فیکٹریوں کے سیمنٹ کی قیمتوں میں فی بوری نوے سے ایک سو روپے تک کا فرق ہے۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نجی شعبہ کئی گنا زیادہ منافع کما رہا ہے۔ اس طرح اس منافع اور نجکاری کا فائدہ صرف مالکان کو ہی ہوا ہے۔ | اسی بارے میں لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے20 July, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کے بعد کشیدگی09 April, 2006 | پاکستان پی ٹی سی ایل تنصیبات ، فوج کا پہرہ 12 June, 2005 | پاکستان حبیب بینک: نجکاری عدالت میں30 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||