پاکستان: آٹا بحران کے آثار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی طرف سرکاری نرخوں پر آٹا فراہم نہ کرنے والی فلور ملوں کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد پنجاب میں ایک بار پھر آٹے کا بحران پیدا ہونے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ فلورملزمالکان کی تنظیم نے حکومت کےمقرر کرردہ نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو ناممکن قرار دیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ نرخوں پر آٹے دینے والی فلورملوں کو سیل کردیا جائے گا۔ حکومت اور فلورملوں میں محاذ آرائی کے باعث مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت پنجاب نے بیس کلو آٹے کی قیمت تین سو پچھتر روپے مقرر کر رکھی ہے جبکہ فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر حبیب لغاری کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ میں بیس کلو کی گندم کی قیمت ہی چار سو روپے ہو تو فلور ملز آٹا پونے چار سو میں کیسے فروخت کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ صوبے کی فلور ملیں اس وقت کھلی مارکیٹ سےگندم خرید رہی ہیں جو ان کے بقول آٹے سے مہنگی ہو چکی ہے انہیں سرکاری گندم کا انتظار ہے۔ پنجاب سے ملک بھر میں گندم اور آٹا سپلائی کیا جاتا ہے اور سال بھر کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکومت کسانوں سے گندم خرید کر ذخیرہ کرتی ہے اور عام طور پر ستمبر سے سرکاری گندم فلورملوں کو دی جانا شروع کی جاتی ہے البتہ اس بار فلور ملوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں یکم اگست سے ہی سرکاری گندم کی سپلائی شروع کردی جائے ورنہ ملک بھر میں آٹے کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ حکومت پنجاب نے تمام اضلاع کے پولیس اور ضلعی افسروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کریں اور ذخیرہ اندوزوں اور مقررہ نرخ پر آٹا سپلائی نہ کرنے والی فلور ملوں کے خلاف کارروائی کریں۔ صوبائی وزیر خوراک ملک ندیم کامران نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ صوبے کے مختلف شہروں کے ہنگامی دورے کیے ہیں اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ فلورملز مالکان نے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔فلورملز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار حبیب لغاری نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تین رکنی ٹیم بنائی ہے اور قانونی ماہرین سے مشورہ کرے گی تاکہ اگر حکومت نے انہیں ناجائز تنگ کیا تو اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جا سکے۔ پاکستان میں گزشتہ دو برس کے دوران آٹے کی قیمت دوگنی ہوچکی ہے اور اس برس اپریل میں حکومت نے آٹے کی فی کلو سرکاری قیمت میں پونے چار روپے کا اضافہ کیا تھا۔فلور ملوں نے تین مہینے بعد ہی اس اضافہ کو ناکافی قرار دیدیا ہے۔ فلور ملزایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد افضل کا کہنا ہے کہ ملک میں تیل، ٹرانسپورٹ اور لیبر کے اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے گندم حکومتی قیمت پر دستیاب نہیں ہے اس لیے پرانے نرخوں پر آٹے کی فراہمی مشکل ہے۔ والٹن روڈ کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ آٹے کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور جس کی وجہ سے وہ اپنے کئی گاہکوں کو آٹا فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک فلور ملزکے مالک بلال صوفی کا کہنا ہے اگر حکومت نے بروقت اقدام نہ کیے تو ماہ رمضان میں آٹے کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بحران حکومتی نااہلی کا نتیجہ‘ 15 January, 2008 | پاکستان ’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘15 January, 2008 | پاکستان ’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘15 January, 2008 | پاکستان سندھ:رینجرز موجود مگر آٹا غائب14 January, 2008 | پاکستان پاکستان آٹے کا بحران شدید تر13 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||