BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 March, 2008, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قائم علی شاہ اس بار کامیاب رہیں گے؟

قائم علی شاہ
پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے لیے بیس سال بعد ایک بار پھر سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلٰی کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس سے پہلے انہیں انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعلٰی بنایا گیا تھا لیکن کچھ ماہ بعد ہی انہیں ہٹا کر ان کی جگہ آفتاب شعبان میرانی کو مقرر کردیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے اُس اقدام کی وجوہات کچھ بھی ہوں پیپلز پارٹی کے اس فیصلے نے قائم علی شاہ کی سیاسی ساکھ کو متاثر ضرور کیا تھا۔

سینئر صحافی جی این مغل کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے انیس سو اٹھاسی میں قائم علی شاہ سے وزارت اعلٰی واپس لینے کا فیصلہ ان کی کمزور انتظامی گرفت کی بناء پر کیا تھا۔

’اس وقت یہاں (سندھ میں) دہشتگردی عروج پر تھی اور ایم کیو ایم جو گورنمنٹ میں ان کی پارٹنر تھی اس کے ساتھ بھی اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور لاء اینڈ آرڈر (بدامنی) کا مسئلہ تھا اس وجہ سے انہیں ہٹایا گیا تھا۔‘

جی این مغل نے بتایا کہ قائم علی شاہ کے بارے میں اس وقت یہ تاثر تھا کہ وہ ایک اچھے منتظم ثابت نہیں ہوئے تھے اور یہ کہ وہ بروقت، فوری اور جراتمدانہ فیصلے بھی نہیں لے رہے تھے جن کا حالات تقاضا کرتے تھے۔

 انیس سو اٹھاسی میں یہاں (سندھ میں) دہشتگردی عروج پر تھی اور ایم کیو ایم جو گورنمنٹ میں ان کی پارٹنر تھی اسکے ساتھ بھی اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور لاء اینڈ آرڈر (بدامنی) کا مسئلہ تھا اس وجہ سے انہیں ہٹایا گیا تھا۔
جی این مغل

’خود پارٹی کے زیادہ تر سندھ اسمبلی کے اراکین کی بھی یہی شکایت تھی کہ قائم علی شاہ اس وقت کے حالات میں حکومت نہیں چلا پا رہے تھے۔‘

لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر اس بات کو نہیں مانتے کہ قائم علی شاہ صوبے کے ناکام وزیر اعلٰی رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’اس وقت جو حکومت میں تھے وہ سارے غیرتربیت یافتہ تھے۔ مطلب یہ کہ ان کی حکومت چلانے کی اتنی تربیت نہیں تھی۔ لیکن اٹھاسی سے اب تک تو بیس سال نکل گئے ہیں بھائی، پھر پارٹی نے جب انہیں نامزد کیا ہے تو وہ اکیلے تو نہیں ہوں گے ان کے پیچھے پوری پارٹی ہوگی۔‘

انیس سو اٹھاسی میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر بھٹو کی جانب سے دوبارہ منظم کی گئی پیپلز پارٹی کا پہلا اقتدار تھا جبکہ اب بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں منظم ہونے والی پیپلز پارٹی اقتدار کی منتظر ہے اور صوبے کے حالات بیس سال پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ مختلف بھی نہیں ہیں۔

جی این مغل کا کہنا ہے کہ قائم علی شاہ کے لیے یہ وزارت اعلٰی بھی آسان نہیں ہے اور اگر اس مرتبہ بھی انہوں نے پرانی روش کا مظاہرہ کیا تو پارٹی اور حکومت کے لیے خاصی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

’سندھ میں آج ماضی کے مقابلے میں بے پناہ ڈپریشن ہے اور پیپلز پارٹی کو سنگین قسم کے حالات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور پھر لوگوں کی توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان توقعات پر وہ کیسے پورا اترتے ہیں اور پھر وہ ایم کیو ایم کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بنا پاتے ہیں یا نہیں اور دونوں صورتوں میں کس طرح حالات کو سنبھالتے ہیں؟‘

 اس وقت جو حکومت میں تھے وہ سارے غیرتربیت یافتہ تھے۔ مطلب یہ کہ ان کی حکومت چلانے کی اتنی تربیت نہیں تھی۔ لیکن اٹھاسی سے اب تک تو بیس سال نکل گئے ہیں بھائی، پھر پارٹی نے جب انہیں نامزد کیا ہے تو وہ اکیلے تو نہیں ہوں گے ان کے پیچھے پوری پارٹی ہوگی
تاج حیدر

جی این مغل نے کہا کہ کافی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ قائم علی شاہ کے لیے یہ خاصا کٹھن کام جسے انہیں پورا کرنا ہوگا۔

دوسری طرف قائم علی شاہ کی نامزدگی پر ایم کیو ایم نے امید ظاہر کی ہے کہ قائم علی شاہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کہتے ہیں کہ ’قائم علی شاہ اس وفد کا حصہ تھے جو گزشتہ دنوں نائن زیرو آیا تھا۔ میں بھی اس ملاقات میں شریک تھا۔ ان سے بہت اچھی بات چیت رہی اور وہ منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اعتدال پسندی کے ساتھ اور شہری اور دیہی خلیج کو کم کرنے کے لئے اور سندھ کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کریں گے۔‘

یاد رہے کہ سنہ اٹھاسی میں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر حکومت بنائی تھی لیکن یہ اتحاد ایک سال بھی نہیں چل پایا تھا۔ اس مرتبہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دینے کا حق اب تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔

’ایک پرچی کی مار‘’ایک پرچی کی مار‘
عوام کو جاہل، ان پڑھ سمجھنے کی سزا؟
بے نظیر بھٹو ’بھٹو کا وارث بھٹو‘
بے نظیر بھٹو کے بعد نوڈیرو کے انتخابات
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
شیخ رشید احمدسہمے سہمے ووٹر
راولپنڈی کے ووٹر گھروں سے نکلنے سےانکاری
مشترکہ یا جداگانہ
اقلیتی ووٹروں کے لیے کونسا نظام بہتر؟
الیکشن 2008
جنوبی پنجاب میں حسب نسب آج بھی اہم کیوں؟
اسی بارے میں
متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟
25 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد